کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 120
’’ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی، عیسائی یا مجوسی (وغیرہ) بنا دیتے ہیں۔‘‘[1] ایک اور حدیث کا ترجمہ حسبِ ذیل ہے، نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سنو! میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس نے مجھے میرے آج کے دن میں جو کچھ سکھایا ہے، تمھیں اس میں سے کچھ وہ باتیں سکھاؤں جن سے تم واقف نہیں ہو (اﷲ فرماتا ہے) ہر وہ مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا ہے، وہ حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو حنیف (اﷲ کی طرف یکسو ہوجانے والا) پیدا کیا ہے۔ (لیکن اس کے بعد ہوا یہ کہ) ان کے پاس شیاطین آئے اور انھوں نے ان کو ان کے دینِ (فطرت) سے پھیر دیا اور ان کے لیے وہ چیزیں حرام کر دیں، جو میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں اور انھوں نے ان کو حکم دیا کہ میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک بنائیں، جن کی میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔‘‘[2] قرآن کی آیت سے معلوم ہوا کہ تمام انسانوں کی پیدایش فطرت، یعنی دینِ اسلام اور توحید پر ہوئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ان کے اندر اس کا شعور رکھا گیا ہے، تاکہ وہ آسانی سے دینِ اسلام کو بھی اختیار کر لیں اور عقیدۂ توحید سے بھی انحراف نہ کریں، لیکن ماحول (جہاں انسان پیدا ہوا اور وہاں پلا بڑھا) اس کو دینِ اسلام کے بجائے دوسرے ادیان کی طرف کھینچ لے جاتا ہے اور وہ یہودی، عیسائی، ہندو وغیرہ بن جاتا ہے۔ دوسرے، شیطان انسان کا ازلی دشمن [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۷۷۵) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۵۸) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۸۶۵)