کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 110
اس سے کیا اس ’’تحقیق‘‘ کی حقانیت و صداقت ثابت ہوجائے گی؟ گمراہی تو گمراہی ہی رہے گی، چاہے ساری دنیا اس پر مجتمع ہوجائے، لیکن اُمتِ مسلمہ کی بابت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے: (( لَنْ تَجْتَمِعَ أُمّتِيْ عَلَی الضَّلَالَۃِ )) ’’میری (ساری) امت ہرگز گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی۔‘‘ یعنی پوری کی پوری امت کسی گمراہی کو اپنا لے، ایسا نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب ہے، گمراہ ٹولے نکلتے رہیں گے اور اپنی بازی گری کے کرتب دکھاتے رہیں گے، لیکن آفتابِ حق کے سامنے جلوۂ آخرِ شب کی طرح معدوم ہوتے رہیں گے۔ شہرستانی کی ’’الملل والنحل‘‘ دیکھ لیجیے۔ ابن حزم کی ’’الفصل في الملل‘‘ دیکھ لیجیے! ایسے بیسیوں فرقے آپ کے مطالعے میں آئیں گے کہ آج ان کا نام بھی ان کتابوں کے علاوہ آپ کو کہیں نہیں ملے گا۔ فراہی گروہ بھی اسی طرح تاریخ کی گزر گاہوں میں نشانِ عبرت کے طور پر نظر آئے گا، یا بادیۂ ضلالت کے راہ نورد ’’الموارد‘‘ اور ’’دانش سرا‘‘ جیسے ڈیروں میں اپنی خوئے ضلالت کی تسکین کا سامان پائیں گے، لیکن اہلِ اسلام ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گے اور حق و صداقت کی بارگاہ میں ان کا مقام وہی ہوگا، جو معتزلہ، قدریہ، جہمیہ وغیرہ فرقوں کے بانیوں اور ان کے قدیم و جدید پیروکاروں کا ہے۔ سینہ زوری کی انتہا: غامدی صاحب لکھتے ہیں: ’’رجم کی سزا کے بارے میں قرآن و سنت کے باہمی تعلق کے حوالے سے جو کچھ ہم نے لکھا ہے، اسے پڑھنے کے بعد یہ سوال ہر طالب علم کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ اس مسئلے میں فقہا کی رائے