کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 107
قیام، جس میں قوانینِ خداوندی کے اتباع کا تصور محسوس اور سمٹی ہوئی شکل میں سامنے آجاتا ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے اس اصطلاح کو ان اجتماعات کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔ قرآنی آیات پر تھوڑا سا تدبر کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ کس مقام پر اقامتِ صلوٰۃ سے مراد اجتماعاتِ نماز ہیں اور کس مقام پر قرآنی نظام یا معاشرے کا قیام۔‘‘ (’’مفہوم القرآن‘‘ از غلام احمد پرویز، جلد اول، بحوالہ ’’فکر و نظر‘‘ اسلام آباد، اشاعت خصوصی بعنوان ’’برصغیر میں مطالعۂ قرآن‘‘، ص: ۳۳۵) اسی طرح اور بھی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ سارے باطل فرقوں کی بنیاد قرآن کی غلط تشریحات اور اس میں معنوی تحریفات پر قائم ہے اور اس کی ہم الحمدﷲ دسیوں، بیسیوں مثالیں پیش کر سکتے ہیں۔ اگر ان باطل فرقوں کی قرآن کی غلط تشریحات اور معنوی تحریفات سے ان کے غلط عقائد و نظریات کا اثبات نہیں ہوسکتا تو غامدی و اصلاحی و فراہی کا خود ساختہ نظریۂ رجم قرآن کے لفظ {یُحَارِبُوْنَ} (محاربہ) کی یا لفظ ’’تقتیل‘‘ کی معنوی تحریف اور باطل تشریح سے کس طرح ثابت ہوجائے گا اور اسے ’’نصوصِ قرآنی‘‘ پر مبنی کیسے تسلیم کر لیا جائے گا؟ کچھ غامدی صاحب کی ’’خوش فہمی‘‘ پر تبصرہ: غامدی صاحب نے فرمایا ہے، بلکہ ڈینگ ماری ہے: ’’اس سے اگر کسی کو اختلاف ہے تو اسے دلائل کے ساتھ اس کا محاکمہ کرنا چاہیے۔ یہ وہ چیز نہیں ہے، جسے جذباتی تحریروں اور بے معنی فتوؤں کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت لوگ جو جی چاہیں کہیں، لیکن وہ وقت اب غالباً بہت زیادہ دور نہیں ہے، جب