کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 103
پہلے مثال دی ہے کہ نصِ قرآنی ہے کہ وراثت میں لڑکے کا حصۂ وراثت، لڑکی سے دوگنا ہے۔ کیا اس کی بابت یہ کہنا صحیح ہوگا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے وراثت میں لڑکے اور لڑکی کے حصے میں یہ فرق وحیِ خفی کے ذریعے سے کیا ہے؟ ظاہر بات ہے ایسا کہنا سراسر غلط ہوگا، اس فرق کو نہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے اور نہ اسے وحیِ خفی سے ثابت ہونے والا حکم ہی قرار دیا جا سکتا ہے، کیوں کہ یہ حکم تو قرآنِ مجید میں موجود ہے، جو وحیِ جلی ہے اور بالکل واضح ہے۔ اس میں تبیینِ رسول کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تو وہ احکام منسوب ہوں گے جن کا ذکر قرآن میں نہیں ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحیِ خفی کے ذریعے سے بیان فرمائے ہیں یا قرآن میں مجمل طور پر ہیں، وحیِ خفی کے ذریعے سے آپ نے ان کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ اہلِ اسلام وحیِ خفی پر مبنی قرآن کریم کی شرح و تفصیل کو بھی مانتے ہیں اور ان احکام کو بھی مانتے ہیں جن کا کوئی ذکر قرآن میں نہیں ہے، لیکن وہ صحیح احادیث سے ثابت ہیں جن میں شادی شدہ زانی کی سزا ’’رجم‘‘ بھی ہے۔ اہلِ اسلام کے نزدیک یہ رجم بھی حدِ شرعی ہے، کیوں کہ احادیثِ صحیحہ متواترہ سے ثابت ہے۔ نظریۂ فراہی اگر ’’نصوصِ قرآنی‘‘ پر مبنی ہے تو پھر یہ ’’تعزیر‘‘ کیوں؟ فراہی گروہ احادیث سے ثابت ہونے والے احکام کو نہیں مانتا، بلکہ ان کو قرآن کے خلاف اور قرآن میں رد و بدل قرار دیتا ہے، گویا وہ وحیِ خفی کا منکر ہے اور ان تمام احکام کا منکر ہے، جو وحیِ خفی، یعنی احادیث پر مبنی ہیں۔ اسی لیے وہ حدِ رجم کی شرعی حیثیت کا بھی منکر ہے اور ان تمام متواتر احادیثِ صحیحہ کا بھی منکر ہے، جن سے واضح طور پر اس حدِ رجم کا اثبات ہوتا ہے۔