کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 100
نہیں کرتے۔ ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فراہی نظریۂ رجم کی ایک حدیث پیش کر دیں، جس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ جو آوارہ منش اور اوباش قسم کا زانی ہوگا، اس کو زنا کی نہیں، بلکہ اوباشی کی پاداش میں سزائے رجم، حد کے طور پر نہیں، بلکہ تعزیر کے طور پر دی جائے گی۔ محترم! یہ فراہی نظریۂ رجم آپ کی یا آپ کے استاذ امام کی سخن سازیوں، لن ترانیوں اور لاف گزاف باتوں سے ثابت نہیں ہوگا، بلکہ ٹھوس دلیل سے ثابت ہوگا اور نہ رجم کی متواتر روایات کو خبرِ آحاد کہہ دینے سے یا ان کی الٹی سیدھی باطل تاویلات کے ذریعے سے کنڈم کرنے کی مذموم اور ناپاک سعی سے اس بے بنیاد نظریے کو کوئی تقویت ہی مل سکتی ہے۔ اس لیے کہ اہلِ اسلام کا نظریۂ رجم {کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُھَا فِی السَّمَآئِ} [إبراھیم: ۲۴] ’’ایک پاکیزہ درخت کی طرح (ہے) جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی چوٹی آسمان میں ہے۔‘‘ کی مثل ہے اور فراہی نظریۂ رجم {کَشَجَرَۃٍ خَبِیْثَۃِنِ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَالَھَا مِنْ قَرَارٍ} [إبراھیم: ۲۶] ’’ایک گندے پودے کی طرح ہے، جو زمین کے اوپر سے اُکھاڑ لیا گیا، اس کے لیے کچھ بھی قرار نہیں۔‘‘ کا مصداق ہے۔ إن شاء اللّٰه العزیز۔ ایک یکسر بے بنیاد دعویٰ اور ہمارا سوال: لیکن باین ہمہ غامدی صاحب کی جراَت بھی دیکھیے اور خوش فہمی بھی! فرماتے ہیں: ’’امام فراہی کی یہ تحقیق قرآنِ مجید کے نصوص پر مبنی ہے اور روایات میں بھی، جیسا کہ ہمارے تبصرے سے واضح ہے، اس کے شواہد موجود ہیں۔‘‘[1] [1] برہان (ص: ۹۱۔ ۹۲)