کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 98
"مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔"[1] نیز فرمان نبوی ہے: "الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً, فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ, وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنْ الطَّرِيقِ, وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنْ الْإِيمَانِ" "ایمان کے ستر سے کچھ زیادہ شعبے ہیں جن میں سب سے افضل واعلیٰ"لاالٰہ الا اللہ" کہنا ہے اور سب سے ادنیٰ درجہ،راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹادیتا ہے۔اور حیا بھی ایمان کا ایک حصہ(شعبہ) ہے۔"[2] علاوہ ازیں اور بھی بہت سی روایات ہیں جو مسلمانوں کے حقوق کا احترام کرنے کی رغبت دلاتی ہیں اور انھیں تکلیف دینے سے روکتی ہیں۔مسلمانوں کے لیے سب سے بڑھ کرتکلیف دہ صورت یہ ہے کہ ان کے عام راستے بند یا تنگ کیے جائیں اور ان میں رکاوٹیں کھڑی کردی جائیں کہ لوگوں کاگزرنا مشکل ہوجائے۔ شفعہ کے احکام شفعة شفع سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی"جفت" کے ہیں۔چونکہ شفعہ کرنے والا مبیعہ کوجو کہ منفردتھا،شفعہ کے ذریعے سے اپنی ملکیت میں ملاتا ہے،چنانچہ اسے شفعہ کہا جاتا ہے۔ شفعہ سنت صحیحہ سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شفعے کے ذریعے سے فساد ونقصان کاوہ دروازہ بند کیا ہے جو شراکت سے تعلق رکھتا ہے۔ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"بندوں کی مصلحتوں کے بارے میں اسلامی شریعت کی خوبیوں اور اس کے عدل وانصاف پر مبنی قوانین میں سے ایک چیز شفعہ بھی ہے۔شارع علیہ السلام کے احکامات کی حکمت کاتقاضا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو مکلفین شرع کا نقصان نہ ہوجبکہ شراکت عموماً نقصان ہی کاباعث بنتی ہے۔شریعت نے اس نقصان کو کبھی تقسیم سے اور کبھی شفعے سے ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔اور واضح کیا ہے کہ اگر کوئی شخص مشترک چیز میں سے اپنا حصہ فروخت کرکے قیمت لینا چاہتا ہے تو اجنبی شخص کی نسبت اس کا شریک(وہ حصہ خریدنے کا) زیادہ حقدار ہے۔ [1] ۔صحیح البخاری الایمان باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ ،حدیث 10۔ [2] ۔صحیح مسلم الایمان باب بیان عدد شعب الایمان۔۔۔حدیث 35۔