کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 91
واقعات سے واقف ہو،نیز واجب اور ذمہ داری کو سمجھتا ہو اورعدل کرنا اس کامقصد ہو۔حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان صلح کروانے والےشخص کامقام ومرتبہ اس شخص سے کہیں بڑھ کر ہے جو مسلسل روزے رکھنے والا اور قیام کرنے والا ہے۔[1] واضح رہے جو صلح عدل وانصاف سے عاری ہوگی وہ ظلم اور حق تلفی ہوگی۔اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کوئی شخص طاقتور ظالم اور کمزور مظلوم کے درمیان اس طرح صلح کروا دے کہ وہ طاقتور ظالم کو خوش کرے،ظالم کے ظلم کو برقرار رکھے،ضعیف کو اس کا حق نہ دلائے یا اسے واپس دلانے کی جرأت و کوشش نہ کرے۔ واضح رہے صلح مخلوق کے ان حقوق کے بارے میں ہوتی ہے جس کا تعلق ایک دوسرے سے ہے اور جنھیں معاف کیا جاسکتاہے ،البتہ اللہ تعالیٰ کے حقوق، مثلاً:حدود اور عبادات وغیرہ میں صلح کی قطعاً گنجائش نہیں ہوتی۔ان میں صلح یہی ہے کہ انھیں مکمل طور پرادا کیا جائے۔ صلح کی پانچ صورتیں ہیں جو درج ذیل ہیں: 1۔ مسلمان اور حربیوں(کافروں) کے درمیان صلح کروانا۔ 2۔ مسلمانوں میں سے اہل عدل اور باغیوں کے درمیان صلح کروانا۔ 3۔ خاوند اور بیوی میں ،جب اختلاف بڑھنے کا اندیشہ ہو،صلح کروانا۔ 4۔ مال کے علاوہ کسی اور چیز میں دو جھگڑے والوں کے درمیان صلح کروانا۔ 5۔ مال کے بارے میں جھگڑنے والے فریقین کے درمیان صلح کروانا۔ واضح رہے اس بحث میں یہی آخری قسم مقصود ہے۔اس کی دو قسمیں ہیں: اقرار پر مبنی صلح۔ انکار پر مبنی صلح۔ اقرار پر مبنی صلح کی دو صورتیں ہیں: 1۔ متنازعہ چیز کا کچھ حصہ معاف کرنے پر صلح کرنا۔ 2۔ متنازعہ چیز کے علاوہ کوئی اورشے دینے پر صلح کرنا۔ اگرصاحب حق صلح کے لیے متنازعہ چیز میں سے کچھ حصہ خود معاف کرنے پر آمادہ ہوجائے تو یہ صلح درست ہے،مثلاً:ایک شخص دوسرے کے کسی مقرر قرض کا اعتراف کرتا ہے یا کسی ایسی مالی شے کااقرارکرتا ہے جو اس کے [1] ۔صحیح ابن حبان 11/489۔حدیث 5092۔