کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 88
یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی رخصت کی حد عبور نہ کی جائے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں نہایت سخت الفاظ استعمال فرمائے ہیں،چنانچہ فرمایا: "وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَنْ يَكْبَرُوا" "اور ان کے بڑے ہوجانے کےڈر سے ان کے مالوں کو جلدی جلدی فضول خرچیوں میں تباہ نہ کرو۔"[1] اور فرمایا: "وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا" "اور اپنے مالوں کے ساتھ ان کے مال ملا کر کھانہ جاؤ،بے شک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔"[2] نیز فرمایا: "إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا" " بے شک جو لوگ ناحق (ظلم سے) یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں، وه اپنے پیٹ میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب وه دوزخ میں جائیں گے "[3] سیدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللّٰهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللّٰهُ إِلا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلاتِ " "سات تباہ کن گناہوں سے بچ کررہو۔"عرض کی گئی:اے اللہ کے رسول! وہ کون کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا:" اللہ کے ساتھ شرک کرنا،جادوکرنا،اللہ کی حرام کی ہوئی جان کو ناحق قتل کرنا،سودکھانا،یتیم کامال کھانا،(کفارسے) جنگ کے موقع پر پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر (بدکاری کی)تہمت لگانا۔"[4] جب یتیم کی یتیمی کا دور ختم ہوجائے (جوسن بلوغت ہے) اور وہ مال میں تصرف کرنے کا اہل ہوجائے تو گواہوں کی موجودگی میں اس کا مکمل مال اس کے حوالے کردیا جائے۔اللہ تعالیٰ کا ارشادہے: [1] ۔النساء 4/6۔ [2] ۔النساء:4/2۔ [3] ۔النساء:4/10۔ [4] ۔صحیح البخاری الوصایا،باب قول اللّٰه تعالیٰ: "إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى...)حدیث 2766 وصحیح مسلم الایمان باب الکبائر واکبرھا حدیث 89۔