کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 85
"إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا" "بے شک جو لوگ ناحق (ظلم سے) یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں، وه اپنے پیٹ میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب وه دوزخ میں جائیں گے "[1] اللہ تعالیٰ نے یتیم کے اولیاء کو نصیحت کرتے ہوئے کہاکہ وہ یتیموں کے مال کی اس طرح نگہداشت اور خیال رکھیں جیسا کہ اپنی اولاد کے مال کا خیال رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ احسان وبھلائی کاسلوک کریں۔ارشاد ربانی ہے: "وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللّٰهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا" "اور لوگوں کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے (ننھے ننھے)ناتواں بچے چھوڑجائیں جن کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ رہتاہے ( تو انہیں ان کے بارےمیں کتنی فکر ہو گی)،چنانچہ اللہ سے ڈر کرٹھیک بات کہا کریں۔"[2] یہ بچے چونکہ اپنے مال کی خود حفاظت نہیں کرسکتے اور نہ اس میں ایسا تصرف کرناجانتے ہیں جس سے ان کا مال بڑھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نگران مقرر فرمادیے جو ان کی اور ان کے مالوں کی حفاظت کرتے ہیں۔اور ان نگرانوں کو نگرانی کے دوران میں توجیہات ارشاد فرمائیں جس پر چل کر وہ یتیموں کے مالوں کی حفاظت کرتےہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے اولیاء(سرپرستوں) کو منع کیا ہے کہ وہ ان لوگوں کو قبل از وقت مال دے دیں تاکہ وہ ضائع نہ کرلیں۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: "وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِيَامًا" "بے وقوف لوگوں کو اپنا مال نہ دے دو جس مال کو اللہ نے تمہاری گزران کے قائم رکھنے کا ذریعہ بنایا ہے۔"[3] امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اللہ تعالیٰ نے بے وقوفوں کومال میں تصرف کرنے کی اجازت دینے سے روکا ہے جس میں لوگوں کے لیے گزران ہے،یعنی ان کی معیشت وتجارت وغیرہ قائم ہے اور اسی سے بے وقوفوں وغیرہ پر"حجر" کا حکم اخذ کیا جاتا ہے۔"[4] جیسے اللہ تعالیٰ نے کم عقلوں کو ان کا مال ان کے سپرد کرنے سے روکا ہے اور اسے اہل نظر اور اصلاح کرنے والوں کے سپرد کردیاہے،ایسے ہی اولیاء کو تنبیہ کی ہے کہ اس میں ایساتصرف نہ کریں جس سے ان کے مالوں میں فائدہ اور اصلاح نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: [1] ۔النساء:4/10۔ [2] ۔النساء:4/9۔ [3] ۔النساء:4/5۔ [4] ۔ تفسیر ابن کثیر :1/601 النساء 4/10۔