کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 72
کرے کیونکہ اس کا حق دوسرے شخص کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔ وہ محال علیہ سے مطالبہ کرتا رہے حتی کہ اس سے اپنی رقم حاصل کر لے یا وصولی کے لیے کسی مناسب صورت پر اس سے صلح و مصالحت کر لے۔ شرعی حوالہ اپنا مال واپس لینے کا آسان اور صحیح طریقہ ہے، اس میں لوگوں کے لیے نہایت سہولت ہے بشرطیکہ اس کا استعمال صحیح اور اچھی طرح ہو اور اس میں کسی قسم کا فریب اور دھوکا شامل نہ ہو۔ وکالت کے احکام وکالت کے لغوی معنی سپرد کرنے"کے ہیں ،جیسے "وكلت أمري إلى اللّٰه"کے معنی ہیں:"میں نے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا۔" اور شرعی معنی ہیں:" کسی ایسے معاملے میں جس میں شرعاً نیابت ہو سکتی ہو، کسی جائز التصرف شخص کا اپنے جیسے شخص کا نائب ہو نا۔" کتاب و سنت اور اجماع سے وکالت کا جواز ثابت ہے۔ قرآن مجید میں ہے: "فَابْعَثُوا أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمْ هَٰذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ " "چنانچہ اب تم اپنے میں سے کسی کو اپنی یہ چاندی (کے سکے) دے کر شہر بھیجو۔"[1] اور فرمان الٰہی ہے: "قَالَ اجْعَلْنِي عَلَى خَزَائِنِ الأَرْضِ" "(یوسف نے) کہا: آپ مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیے۔"[2] ایک اور مقام پر فرمان الٰہی ہے: "وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا" "اور ان (صدقات ) کو وصول کرنے والوں کے لیے۔"[3] ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کی خریداری کے لیے سیدنا عروہ بن جعد رضی اللہ عنہ کو وکیل بنایا۔[4]نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلام ابو رافع رضی اللہ عنہ کو بھیجا جنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہاکے ساتھ کیا۔[5] [1] ۔الکہف:18۔19۔ [2] ۔یوسف :12۔55۔ [3] ۔التوبہ:9۔60۔ [4] ۔صحیح البخاری المناقب باب: 28۔حدیث 3642۔ [5] ۔(ضعیف )مسند احمد 6/392۔393۔و جامع الترمذی الحج باب ماجاء فی کراھیۃ تزویج المحرم، حدیث841۔