کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 68
کفالت (شخصی ضمانت ) کے احکام کفالت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی ایسے آدمی کے بارے میں یہ ذمہ داری اٹھائے کہ اپنے آپ پر یہ لازم کر لے کہ اگر فلاں پر کوئی مالی حق ثابت ہو گیا تو میں اسے عدالت میں پیش کردوں گا۔اسے آج کل کے عرف میں "شخصی ضمانت"کہا جاتا ہے۔ "عقد کفالت" مکفول (جس کی شخصی ضمانت دی جائے) کے وجود سے متعلق ہوتا ہے ،لہٰذا ہر اس انسان کی کفالت درست ہے جس پر کوئی مالی حق ہو یا اسے کسی عدالت میں حاضر کرنا ہو، مثلاً:قرض وغیرہ کی ادائیگی میں کفالت ۔ جس شخص پر کسی جرم کی وجہ سے حد لگائی جانی ہو اس کے بدن کی کفالت صحیح نہیں کیونکہ کفالت کا مقصد مطلوب شخص کی حاضری کو یقینی بنانا ہے اور حدودشبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہیں، لہٰذا ان میں حاضری کو یقینی بنانا ممکن نہیں۔ اسی طرح ایسے بدن کی کفالت بھی درست نہیں جس پر قصاص دینا لازم ہو کیونکہ قصور وار کے علاوہ کسی دوسرے شخص سے قصاص نہیں لیا جا سکتا ۔ اسی طرح اگرکفیل مجرم کو حاضر نہ کر سکے تو مجرم کے جرم کی سزا کفیل کو نہیں دی جا سکتی۔ کفالت کے درست ہونے کے لیے کفیل کا رضا مند ہونا شرط ہے کیونکہ اس کی رضا کے بغیر اس پر کوئی حق مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی کو حاضر کرنے کی کفالت میں"مکفول"مرجائے تو اس پر کچھ لازم نہیں آتا کیونکہ اس صورت میں وہ اسے عدالت میں حاضر کرنے سے معذور ہے۔ اسی طرح اگر مکفول نے اپنے آپ کو خود ہی مالک کے حوالے کر دیا تو کفیل بری ہو گا کیونکہ کفیل نے جس کی ذمے داری اٹھائی تھی وہ موقع پر خود ہی حاضر ہو گیا ہے۔ مالی کفالت کی صورت میں اگر مکفول زندہ ہے اور اس کے حاضر ہونے کا وقت آگیا لیکن اس کو حاضر کرنا مشکل ہےیا وہ کہیں غائب ہو گیا ہے اور ایک عرصہ بیت گیا تو کفیل اپنے مکفول کے قرض کا ضامن ہو گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:" ضامن ادائیگی کرے گا۔"[1] [1] ۔سنن ابی داؤد، البیوع، باب فی تضمین العاریہ، حدیث 3565وجامع الترمذی البیوع باب ماجاء فی ان العاریۃ موداۃ، حدیث 1265۔