کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 58
میں لگایا جائے تو مقروض سے زیادہ رقم لینے کی شرط پر دیتے ہیں یہ سراسر سود ہے۔ یہ شرط بنک کی طرف سے ہو یا کسی فرد یا کسی کمپنی کی طرف سے ہو، یہ سود ہی ہےچاہے اس کا نام کوئی بھی رکھ دیا جائے ۔ مثلاً: منافع (PROFIT)فائدہ یا ہدیہ وغیرہ ۔حدیث میں ہے: "كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ رِبًا" "جو قرض نفع لائے وہ سود ہے۔"[1] سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا فَأَهْدَى لَهُ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى الدَّابَّةِ فَلَا يَرْكَبْهَا وَلَا يَقْبَلْهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ جَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ " "جب کوئی کسی کو قرض دے تو اس کے بدلے میں اگر مقروض قرض خواہ کوکوئی ہدیہ دے یا اسے جانور پر سوار کرے تو (قرض خواہ) سوار نہ ہو اور ہدیہ قبول نہ کرے الایہ کہ ان دونوں کے درمیان قرض سے پہلے ایسا معاملہ چلتا ہو۔"[2] حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ "إِذَا كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ ، فَأَهْدَى إِلَيْكَ حِمْلَ تِبْنٍ فَلَا تَأْخُذْهُ ، فَإِنَّهُ رِبًا " "جب کسی آدمی پر آپ کا حق ہو تو اگر وہ تجھے بھوسے کی ایک گٹھڑی بطور ہدیہ دے تو مت لو کیونکہ وہ سود ہے۔"[3] یہ روایت مرفوع کے حکم میں ہے۔ ان روایات کی روشنی میں قرض خواہ کو چاہیے کہ مقروض سے(قرضہ دینے کے سبب) کسی قسم کا ہدیہ یا نفع وغیرہ قبول نہ کرے کیونکہ اس کی ممانعت ہے، نیز قرضہ دینے کا مقصد مقروض کے ساتھ تعاون کرنا اور اللہ تعالیٰ سے اجرو ثواب حاصل کرنا ہے۔اگر کسی نے قرض سے زیادہ وصول کرنے کی شرط لگا دی یا زیادہ لینے کی کوشش کی یا اس کی حرص رکھی تو قرض دینے کا( درج بالا) مقصد ختم ہوگیا بلکہ وہ قرض بھی نہ رہا۔ ہر مسلمان کو حرام کاموں سے بچنا چاہے۔قرض دیتے وقت ثواب کی خالص نیت ہونی چاہیے کیونکہ قرض دینے کا مقصد مال بڑھانا نہیں بلکہ محتاج کی حاجت کو پورا کرنے اور رأس المال واپس لینے کے ذریعے سے اجروثواب [1] ۔کنز العمال :6/238۔حدیث:15516۔یہ حدیث ضعیف ہے۔ دیکھئے: ارواءالغلیل 5/235۔236۔حدیث:1398۔ [2] ۔ سنن ابن ماجہ الصدقات باب القرض حدیث:2432۔ [3] ۔صحیح البخاری، مناقب الانصار، باب مناقب عبد اللّٰه بن سلام رضی اللّٰه عنہ حدیث: 3814۔