کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 509
مشترک شے کو بیچنے کا مطالبہ کرے تو اس شے میں شریک دوسرے شخص کو بھی شے کی فروخت پر آمادہ کیا جائے گا۔اگر کوئی انکار کردے تو قاضی اس شے کو خود فروخت کرے گا اور اس کی قیمت دونوں میں ان کے حصص کے مطابق تقسیم کرے گا۔ تقسیم کے نتیجے میں کسی کو ہونے والے نقصان سے مراد یہ ہے کہ تقسیم کی صورت میں قیمت کم ہوجائے ،خواہ تقسیم کرنے کے بعد وہ اس سے فائدہ اٹھائیں یا نہ اٹھائیں ،لہٰذا اگر تقسیم کے بعد وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تو یہ نقصان معتبر نہ ہو گا۔ زبردستی کی تقسیم یہ ایسی قسم ہے جس میں تقسیم سے کسی کا نقصان نہیں ہوتا اور نہ کسی کوکوئی معاوضہ دینا پڑتا ہے۔ اس قسم کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ قاضی رکاوٹ بننے والے شریک کو زبردستی کر کے بھی منواسکتا ہے۔ بشرطیکہ اس تقسیم سے متعلق تمام شرائط موجود ہوں۔ ایسی تقسیم وہاں ہوتی ہے جہاں علاقے، باغ ،بڑے گھر،وسیع زمین کھلی دکانیں یا ایک جنس کی ناپ اور وزن والی اشیاء کی تقسیم کا مسئلہ ہو۔ اس تقسیم میں رکاوٹ بننے والے کو مجبور کرنے کے لیے تین شرائط کا ہونا ضروری ہے:1۔شرکاء کی ملکیت قانونی طور پر ثابت ہو۔2۔اسے یہ علم ہو کہ اس تقسیم میں کسی کا کوئی نقصان نہ ہو گا۔3۔اسے یہ بھی علم ہو کہ مشترک شے کمی بیشی کے بغیر حصص کے مطابق تقسیم ہو جائے گی۔ جب یہ مذکورہ بالا شرائط موجود ہوں نیز شرکاء میں سے کسی ایک کا تقسیم کرنے کا مطالبہ ہو تو دوسرے شریک کو تقسیم پر مجبور کیا جائے گا اگرچہ وہ اپنے شریک کے ساتھ تقسیم کرنے میں رکاوٹ ڈالے کیونکہ تقسیم شراکت کے نقصان کو ختم کر دیتی ہے اور ہر ایک اپنے حصے میں مختارہو جاتا ہے کہ اس سے جس طرح چاہے فائدہ اٹھائے مثلاً:زمین میں پودے لگائے یا اس میں کوئی عمارت تعمیر کرے وغیرہ اور یہ صورت شراکت کی بقا میں ممکن نہ تھی۔ اگر مشترک چیز کا ایک شریک نابالغ یا غیر عاقل ہے تو اس کا ولی اس کی طرف سے نائب ہوگا۔ اگر کوئی شریک غیر حاضر ہو تو خود قاضی اس کا نائب ہوگا۔ درحقیقت یہ تقسیم ہر شریک کو اس کا حق ادا کرنے کی آسان صورت ہے۔ اور یہ سابق قسم کی طرح "بیع"کے حکم میں بھی نہیں بلکہ بیع کے احکام سے مختلف ہے۔ شرکاء مشترک شے کو خود بھی تقسیم کر سکتے ہیں یا کسی سے تقسیم کروسکتے ہیں یا قاضی سے کسی تقسیم کرنے والے شخص کی تقرری کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔