کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 506
اسے گواہوں پر شک ہو تو ان سے پوچھے کہ انھیں یہ معلومات کب اور کیسے حاصل ہوئیں؟ امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"قاضی کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو گناہ گار ہو گا۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آکر دو آدمیوں نے گواہی دی کہ فلاں شخص نے چوری کی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو ان پر شک ہوا تو فرمایا:" تم دونوں اس شخص کا ہاتھ کاٹ دو۔ یہ سن کروہ بھاگ گئے۔"[1] اگر فریق مخالف نے گواہوں کو ناقابل اعتبار قراردیا تو اس سے مطالبہ کیا جائے گا کہ ان کے ناقابل اعتبار ہونے کا ثبوت پیش کرے کیونکہ حدیث میں ہے: " البَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي " "گواہ پیش کرنا مدعی کے ذمے ہے۔"[2] لہذا اسے تین دن کی مہلت دی جائے گی ۔ اگر اس نے اپنی جرح کے حق میں گواہ پیش نہ کیے تو فیصلہ اس کے خلاف دے دیا جائے گا۔کیونکہ جرح کے حق میں مذکورہ مدت میں گواہ پیش نہ کر سکنا اس کے جھوٹا ہونے کے لیے کافی ہے۔ اگر قاضی کو گواہوں کے حالات زندگی کے بارے میں علم و خبر نہ ہو تو وہ مدعی سے اس کے بارے میں تزکیہ طلب کرے تاکہ ان کا عادل اور دیانت دار ہونا ثابت ہو اور ان کی شہادت پر فیصلہ دیا جائے۔ کسی شخص کے تزکیے کے لیے دو آدمیوں کی شہادت شرط ہے۔ بعض کے نزدیک ایک آدمی کی شہادت تزکیہ کافی ہے۔ اگر ایک فریق عدالت سے غائب ہے اور وہ اس قدر مسافت پر ہے جس سے نماز قصر کرنے کا حکم ہے تو قاضی اس کے خلاف فیصلہ کر سکتا ہے بشرطیکہ دلائل اس کے خلاف جارہے ہوں ، چنانچہ حدیث میں ہے:"ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بیوی ہند رضی اللہ عنہا نے کہا:اے اللہ کے رسول! ابو سفیان رضی اللہ عنہ کچھ زیادہ ہی کفایت شعار ہیں وہ مجھے نان و نفقہ کے لیے اس قدر نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کے لیے کافی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ان کی غیر حاضری میں اس قدر مال لے سکتی ہے جو تجھے اور تیری اولاد کو کفایت کر جائے۔"[3] اس روایت سے ثابت ہوا کہ غیر حاضر شخص کے خلاف فیصلہ دیا جا سکتا ہے، پھر جب وہ حاضر ہوگا تو اس کی دلیل سنی جائے گی کیونکہ اب رکاوٹ ختم ہو گئی ہے۔ جب یہ فیصلہ دے دیا جائے کہ حق فلاں شخص کا ہے تو اس سے یہ دعوی ختم نہیں ہو سکتا کہ صاحب حق کو اس کی [1] ۔ الطرق الحکمیۃ لا بن القیم، ص:68۔99۔100۔ [2] ۔جامع الترمذی، الاحکام، باب ماجاء فی ان البینۃ علی المدعی۔۔۔۔، حدیث 1341۔۔ [3] ۔صحیح البخاری، النفقات ، باب اذا لم ینفق الرجل۔۔۔، حدیث:5364۔وصحیح مسلم، الاقضیۃ، باب قضیۃ ھند، حدیث :1714۔