کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 488
علاوہ ازیں اس امت کے افراد کے لیے خطا ونسیان اور جس کام میں کسی کو مجبور کیا گیا ہو سب میں معافی ہے۔اللہ تعالیٰ نے کفارہ ٔ قسم کو بیان کر کے فرمایا: "وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُم" "اور اپنی قسموں کا خیال رکھو۔"[1] قسموں کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ قسمیں اٹھانے میں جلد بازی سے کام نہ لویا قسموں کو توڑنے میں جلدی نہ کیا کرو یا توڑدیا ہے تو کفارے کے بغیر نہ چھوڑو۔ قرآن مجید کی آیت کا اطلاق ان تمام صورتوں پر ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ آیت کریمہ میں حکم ہے کہ قسم کا لحاظ کرو اور اسے بے وقعت اور معمولی نہ سمجھو۔ اس امر پر تنبیہ کرنا نہایت ضروری ہے کہ بعض لوگ جب قسم اٹھاتے ہیں تو قسم کی مخالفت کے لیے حیلہ سازی کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ قسم کی ذمے داری سے بچ گئے ہیں۔ امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اس مسئلے پر تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’باطل حیلوں میں سے یہ ہے کہ اگر ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ یہ روٹی نہ کھائے گا یا اس سال وہ فلاں گھر میں رہائش نہیں رکھے گا یا وہ فلاں کھانا نہیں کھائے گا پھر وہ وہی روٹی کھاتا ہے مگر ایک لقمہ نہیں کھاتا یا وہ سارا سال مقررہ مکان میں رہائش رکھتا ہے مگر ایک دن کم یا سارا کھانا کھالیتا ہے مگر تھوڑا سا چھوڑ دیتا ہے تو یہ حیلہ باطل ہے۔ اس نے جب یہ کام کر لیا تو اس کی قسم ٹوٹ گئی۔ حیلہ ساز کو چاہیے کہ اس قسم کے کاموں سے خود کو بچائے۔‘‘[2] بعض لوگ قسم اٹھالیتے ہیں کہ وہ فلاں کام نہیں کریں گے، پھر وہ کسی کو اپنا وکیل بنا لیتے ہیں جو وہی کام کر دے۔یہ بھی حیلہ سازی ہے جو مذموم ہے، البتہ اس کی قسم تب ہی قائم رہے گی جب وہ قسم اٹھائے گا کہ وہ یہ کام خود نہیں کرے گا۔ الغرض ہر حال میں قسم کی بہت اہمیت ہے اس میں تساہل جائز نہیں اور نہ قسم کے حکم سے بچنے کے لیے کوئی حیلہ سازی کرنی چاہیے۔ نذر کے احکام نذر کے لغوی معنی "لازم کرنے"کے ہیں جبکہ شرعی معنی" کسی عاقل ،بالغ اور مختار شخص کے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے اوپر کسی کام کو لازم کرنے"کے ہیں۔ [1] ۔المائدہ: 5/89۔ [2] ۔اعلام الموقعین :3/267۔