کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 48
"أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ " "کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں،یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہوسکتا ہے؟"[1] ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اپنے دین کی مدد فرمائے اور اپنے کلمے کو بلند کرے۔مسلمانوں کو ان کے دشمنوں کے مکروفریب سے محفوظ رکھے۔بے شک وہی سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔ پھلوں وغیرہ کی بیع پھلوں سے مراد وہ پھل ہیں جو درختوں پر لگے ہوں اور کھائے جاتے ہوں۔ان کے احکام درج ذیل ہیں: جب درختوں پر لگا ہوا صرف پھل ہی بیچا جائے (درخت شامل نہ ہوں) تو اس عقد کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ اس پھل کی صلاحیت ظاہر ہو چکی ہو ورنہ بیع جائز نہ ہو گی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کی درستی ظاہر ہونے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے،(اس سے) بائع اور مشتری دونوں کو منع کر دیا ہے۔"[2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائع کو منع فرمایا کہ وہ درختوں پر پھل کی صلاحیت ظاہر ہوئے بغیر فروخت کرے تاکہ وہ لوگوں کا مال حرام اور باطل طریقے سے نہ کھائے۔ اسی طرح آپ نے مشتری کو بھی منع کیا کیونکہ وہ باطل طریقے سے مال کھلانے میں مددگار ثابت ہو گا۔ صحیحین میں روایت ہے: "أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا وَعَنْ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ قِيلَ: وَمَا يَزْهُو؟ قَالَ: يَحْمَارُّ أَوْ يَصْفَارُّ " "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کی درستی ظاہر ہونے تک اور کھجور کے بڑھنے تک سودا کرنے سے منع کیا۔ پوچھا گیا:بڑھنے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: وہ سرخ یا زرد ہو جائے۔"[3] درج بالا دونوں حدیث میں جونہی وارد ہوئی ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ درستی ظاہر ہونے سے پہلے پھل کی [1] ۔المائدۃ 5/50۔ [2] ۔صحیح البخاری ، البیوع ،باب بیع الثمار قبل ان یبدو صلاحہا ، حدیث 2194وصحیح مسلم، البیوع ، باب النھی عن بیع الثمار قبل بدو صلاحہا بغیر شرط القطع ،حدیث 1534۔ [3] ۔صحیح البخاری البیوع باب بیع النخل قبل ان یبدوصلاحہا حدیث :2197و صحیح مسلم ، البیوع باب وضع الجوائح ،حدیث 1555