کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 47
انگور،شہتوت اور انار کےدرختوں کا پھل پک جائے تو ان کا حکم بھی وہی ہے جو کھجور کے درخت کاہے،یعنی وہ بائع ہی کا ہے۔اگر کھجور کے درخت کی تأبیر اور انگور وغیرہ کی بیل پر پھل کے ظہور سے قبل بیع ہوئی تو پھل مشتری کا ہے۔کھجور کے درخت کے بارے میں جو روایت گزرچکی ہے اس کا یہی مفہوم ہے ،نیز قیاس بھی اس کا متقاضی ہے۔ اس گزشتہ تفصیل کو دیکھ کر شریعت اسلامیہ کا کمال سمجھ میں آتا ہے کہ اس میں لوگوں کی مشکلات کاکس قدر حل ہے۔شریعت ہر حق والے کو اس کاحق اس طرح دیتی ہے کہ دوسروں پر ظلم وزیادتی بھی نہیں ہوتی۔اس میں ہرمشکل کا ایسا حل ہے جو مصلحت وحکمت پر مبنی ہے کیونکہ یہ شریعت ایسی ذات کی طرف سے جو حکیم وحمید ہے اور اسے خوب معلوم ہے کہ ہرزمان ومکان میں اس کے بندوں کا نفع اور ان کا نقصان کس صورت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ سچ فرماتا ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللّٰهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا" "اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہارا اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام بہت اچھا ہے"[1] لوگوں کے درمیان اختلاف ونزاع کا خاتمہ ،مصالح کا تحقق اور ایمان دار نفوس کا اطمینان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم وفیصلے پر عمل کیے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا کیونکہ انسانی نظام انسانی مسائل کے حل سے قاصر ہے،اس میں خواہشات اور نزاعات کا دخل ہوتا ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ کاارشادہے: "وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ" "اگر حق ہی ان کی خواہشوں کا پیروکار ہوجائے تو زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہرچیز درہم برہم ہوجائے۔"[2] ان اذہان وقلوب کے لیے تباہی وبربادی ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون کو چھوڑ کر انسانوں کا بنایا ہوا قانون اختیار کرتے ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: [1] ۔النساء:59۔ [2] ۔المومنون 23:71۔