کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 450
سے لڑنا بھی ضروری ہے اور جمہور کا یہی موقف ہے ۔امیر نیک ہو یافاجر وفاسق،اگر وہ باغی کفار یا مرتدین یا معاہدے کو توڑنے والوں یا خوارج سے جنگ کرے تو اس کے ساتھ بھرپورتعاون کرتے ہوئے لڑائی لڑی جائے۔اگر اس کی لڑائی جائز نہ ہوتو اس کے ساتھ جنگ میں شامل نہ ہوا جائے۔"[1] (6)۔اگر خوارج کے عقائد رکھنے والا گروہ امام کی اطاعت کرتارہے اور لڑائی کرنے پر آمادہ نہ ہوتو احکام اسلام کے مطابق ان پر تعزیر ہوگی،نیز ان کے عقائد کی تردید کی جائے گی اور انھیں اپنی باطل رائے کی نشرواشاعت کی اجازت نہ دی جائے گی۔یہ مسلک ان حضرات کا ہے جو خوارج کو کافر نہیں کہتے جیسا کہ جمہور علماء کاموقف ہے۔باقی رہے وہ حضرات جن کافتویٰ ہے کہ خوارج کافر ہیں تو ان کے نزدیک خوارج سے قتال کرنا بہرحال ضروری ہے۔ ارتداد کے احکام مرتد "ارتد" فعل سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کے لغوی معنی"لوٹ جانے والے"کے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَلَا تَرْتَدُّوا عَلَىٰ أَدْبَارِكُمْ " "اورتم اپنی پشت کے بل روگردانی نہ کرو۔"[2] شرعی اصطلاح میں مرتد وہ شخص ہے جو اسلام قبول کرلینے کے بعداپنی مرضی سے زبان کے ذریعے سے یا دل یا عمل کے ساتھ دین اسلام کے احکام کاانکارکردے۔شریعت میں مرتد کے لیے دنیوی حکم بھی ہے اور اخروی حکم بھی ۔دنیوی حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان فرمایاہے: " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " "جو(مسلمان) اپنا دین بدل دے اسے قتل کردو۔"[3] اس اہم حکم کے ضمن میں چند مزید احکام بھی ہیں کہ اسے قتل کرنے سے قبل اس کی بیوی کو اس سے الگ کردیا جائے گا،نیز اسے مالی تصرفات سے بھی روک دیاجائےگا۔اس مسئلے پر علمائے کرام کا اجماع ہے۔ باقی رہا آخرت میں حکم تو اسے اللہ تعالیٰ نے یوں بیان کیاہے: "وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ وَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ" [1] ۔منھاج السنۃ النبویہ 6/116۔117۔ [2] ۔المائدۃ 5/21۔ [3] ۔صحیح البخاری الجھاد باب لا یعذب بعذاب اللّٰه،حدیث:3017۔