کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 44
سودی کاروبار میں سے ایک صورت"بیع عینہ" کی ہے جس کی صورت یہ ہے کہ کسی کو اپنی چیز ادھار بیچ دیتا ہے،پھر اس کو کم رقم دے کر نقد خرید لیتا ہے تو اس معاملے(خریدوفروخت) کو "بیع عینہ" کہتے ہیں کیونکہ ادھار سامان خریدنے والا اس کے بدلے میں عین(نقد) مال وصول کرلیتاہے اس طرح کی بیع صرف سود کمانے کا ایک حیلہ ہے جبکہ بہت زیادہ احادیث میں اس کی نہی وارد ہوئی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:"جب تم"بیع عینہ" کرنے لگ جاؤ گے اور بیلوں کی دُمیں پکڑ لوگے(زراعت میں مشغول ہوجاؤ گے) اور کھیتی باڑی پر راضی ہوجاؤ گے اور جہاد چھوڑدوگے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت ورسوائی مسلط کردےگا حتیٰ کہ تم اپنے دین کی طرف پلٹ آؤ۔"[1] نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:" لوگ پر ایک ایسا وقت آئے گا جب وہ بیع کا نام دے کر سود کو حلال قراردیں گے۔"[2] مسلمانو! اپنے معاملات میں سود کو داخل نہ ہونے دو۔اپنے مال کو سود کی ملاوٹ سے بچاؤ کیونکہ سود لینا اور دینا کبیرہ گناہ ہے۔جس قوم میں سود اورزنا ظاہر ہوتے ہیں ان میں فقر ومحتاجی اور مختلف ناقابل علاج بیماریاں جنم لیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان پر ظالم حکمران مسلط کردیتاہے۔سود مال کو تباہ کرتا ہے اور خیروبرکت کو مٹادیتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے سود کھانے پر سخت وعید بیان فرمائی ہے اور سود کھانے کو شرمناک اور کبیرہ گناہ شمار کیا ہے ۔سود کھانے والے کی سزا دنیا اور آخرت میں بیان کردی ہے،نیز سودخور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کرتا ہے۔اسی سود کی وجہ سے مال کی برکت اٹھ جاتی ہے اور سود کا مال عموماً ہلاک اور برباد ہوتارہتاہے۔کتنے ہی واقعات ایسے ہیں کہ سودخوروں کا بڑا بڑا مال جل جاتا ہے ،تباہ ہوجاتا ہے یا سمندروں اورسیلابوں کی نذر ہوجاتا ہے اور سود خور کنگال ہوجاتے ہیں۔اگر یہ مال سودخوروں کے پاس رہے تو بھی اس میں کوئی خیروبرکت نہیں ہوتی۔اس سے تو وہ کوئی فائدہ نہیں حاصل کرپاتا جبکہ وہ اس کے حساب وکتاب میں پھنسا رہتا ہے اور اسی کے دکھ میں مبتلا رہتا ہے۔ سودی کاروبار کرنے والے اللہ تعالیٰ کے ہاں اور اس کی مخلوق کے ہاں ناپسندیدہ ہوتے ہیں،اس لیے کہ وہ لوگوں سے مال چھینتے ہیں ان کو دیتے نہیں،جمع کرکے اپنے پاس روکے رکھتے ہیں،نہ تو اس سے صدقہ وخیرات کرتے ہیں اور نہ اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔وہ انتہائی حریص اور لالچی ہوتے ہیں ،بہت زیادہ مال کو جمع کرنے والے اور بہت زیادہ روکنے والے ہوتے ہیں۔دل ان سے متنفر ہیں جبکہ یہ لوگ معاشرے کے دھتکارے ہوتے ہیں۔یہ تو ان کی دنیاوی سزا ہے جبکہ اخروی سزا تو بہت سخت اور دائمی ہے جس کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے [1] ۔سنن ابی داود البیوع باب فی النھی عن العینۃ حدیث 3462۔ [2] ۔(ضعیف) غایۃ المرام فی تخریج احادیث الحلال والحرام حدیث 13 واغاثۃ اللھفان من مصائد الشیطان 1/486۔