کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 415
معاشرے عدالت الٰہیہ سے محروم ہیں ۔وہ امن وسکون کی دولت سے عاری ہیں۔اگرچہ ان کے پاس جدید اسلحہ اور جدید ٹیکنا لوجی موجود ہے لیکن یہ چیزیں معاشرے میں امن وسکون قائم کرنے کا سبب نہیں ہوسکتیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی حدود کو نافذ کیا جائے کیونکہ یہی قانون انسانوں کی بھلائی کا ضامن ہے۔ یاد رہے نظام حکومت اسلحہ کے زور سے نہیں چلایا جاسکتا وہ تو اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی حدود کے نفاذہی سے چل سکتا ہے۔دور حاضر میں جدید ترسامان حرب حدود الٰہی کے نفاذ کی خاطر استعمال ہوسکتا ہے بشرطیکہ اس کااستعمال درست ہاتھوں سے ہو۔ تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے منحرف لوگ حدود الٰہی کو ظلم ووحشت کا نام دیتے ہیں ،حالانکہ یہ سراسر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل ہے۔افسوس ہے کہ یہ لوگ ظالم اور مجرم کے عمل کو وحشت وظلم نہیں کہتے،حالانکہ اسی نے امن وسکون کو برباد کیا تھااور بے گناہوں پر زیادتی کامرتکب ہواتھا۔ لیکن جاہل لوگوں نے ایسے مجرموں اور ظالموں کو عبرتناک سزادینے کے نظام کو وحشیانہ اور ظالمانہ قراردے دیا۔اصل بات یہ ہے کہ جب عقل ہی الٹ ہوجائے اور فطرت میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو اس کی فکر ونظرایسی ہوجاتی ہے کہ وہ حق کوباطل اورباطل کو حق سمجھنے لگتا ہے جیسا کہ ایک شاعر نے خوب کہا ہے: قد تُنْكِر العَيْن ضَوء الشَّمْس مِن رَمَدٍ ويُنْكِر الفَـمُ طَعْمَ الْمَاء مِن سَقَمِ "اندھی آنکھ سورج کی روشنی کاانکار کردیتی ہے،منہ بیماری کی وجہ سے پانی کے ذائقے کا انکار کردیتا ہے۔" (2)۔مجرم شخص پر حدودالٰہی کانفاذ اس وقت تک جائز نہ ہوگا جب تک درج ذیل شرائط موجود نہ ہوں: 1۔ جرم کامرتکب شخص عاقل وبالغ ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ : عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ , وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ , وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ " "تین قسم کے آدمیوں سے قلم اُٹھا لیا گیا ہے:(1)۔سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے۔(2)۔بچےسے یہاں تک کہ بڑا(بالغ) ہوجائے۔ (3)۔اور دیوانے سے یہاں تک کہ عاقل بن جائے۔"[1] جب یہ لوگ عبادات میں مکلف نہیں تو ان سے حدود الٰہی کا سقوط بالاولیٰ درست ہے کیونکہ شک وشبہے کی بنیاد پر [1] ۔سنن ابی داود، الحدود، باب فی المجنون یسرق او یصیب حدا ،حدیث 4401۔وسنن النسائی، الطلاق ،باب من لا یقع طلاقہ من الازواج حدیث 3462و اللفظ لہ۔