کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 41
"فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ" "جب یہ اشیاء مختلف ہوں تو جس طرح چاہو فروخت کرو بشرطیکہ دست بدست تبادلہ ہو۔"[1] اگر جنس اور علت دونوں مختلف ہوں تو کمی بیشی جائز ہے اور نقد یا ادھار کرنا بھی جائزہے،مثلاً: سونا اور گندم کی بیع یا چاندی اور جوکا باہمی تبادلہ وبیع کرنا۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ماپ والی چیز کا اپنی جنس کے بدلے ماپنے کے بغیر اوروزن والی چیز کا اپنی جنس کے عوض وزن کیے بغیر فروخت کرناناجائزہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:"سونے کی سونے کے ساتھ اور چاندی کی چاندی کے ساتھ خریدوفروخت وزن کرکے کی جائے۔ گندم کی گندم کے بدلے اور جو کی جوکے بدلے خریدوفروخت ماپ کے ساتھ کی جائے۔"[2] اس کی وجہ یہ ہے کہ جب شرعی میعار کو پیش نظر نہیں رکھاجائے گا تو تبادلے میں دونوں جنسوں کے برابر سونے کا یقین نہ ہوگا،لہذا کسی کیلی چیزکا تبادلہ اسی جنس کے ساتھ اٹکل وتخمینہ سے کرنا جائز نہیں۔اسی طرح وزن کردہ چیز کی بیع اس جنس کے عوض جس میں صرف برابری کا اندازہ وتخمینہ ہو،ناجائز ہے کیونکہ محض اندازے اور اٹکل سے برابر ہونے کا یقین نہیں ہوتا۔اور جنسوں کی برابری کاعلم نہ ہونا تفاضل وبیشی کا علم ہونے کی طرح ہے۔ بیع صرف،یعنی نقدی کا باہمی تبادلہ کرنا،جنس متحد ہو یا مختلف نقدی سونے کی ہو یا چاندی کی یا نوٹوں کی صورت میں سب کا ایک ہی حکم ہے کیونکہ اس میں علت سود(ثمنیت) پائی جاتی ہے۔ بیع صرف کی مختلف صورتوں کی تفصیل حسب ذیل ہے: جب کسی کرنسی کی بیع(ہم جنس) کرنسی کے ساتھ کی جائے،مثلاً:سونے کی سونے کے ساتھ بیع ہو یا چاندی کی چاندی کے ساتھ یانقدی نوٹوں کی بیع ہو جو ایک ہی ملک کے ہوں،مثلاً:ڈالر کی بیع ڈالر سے یا سعودی عرب کے کرنسی نوٹ(ریال) کا تبادلہ سعودی ریال سے ہوتوضروری ہے کہ تبادلے میں دونوں طرف سے مقدار برابر ہو اور مجلس میں لین دین نقد ہو۔ اگرایک ملک کی کرنسی کا تبادلہ کسی دوسرے ملک کی کرنسی کےساتھ ہو یاجنس اورقسم تبدیل ہوگئی،مثلاً:سعودی ریال کا تبادلہ امریکی ڈالروں سے ہویا سونے کا لین دین چاندی کے عوض میں ہوتو مجلس میں نقد لین دین(قبضہ) ضروری ہے،البتہ جنسوں میں کمی بیشی جائز ہے۔اسی طرح سونے کے زیورات کی بیع چاندی کے در اہم کے عوض [1] ۔صحیح مسلم المساقاۃ باب الصرف وبیع الذھب بالورق نقدا حدیث 1587۔ [2] ۔السنن الکبری للبیہقی:5/291۔