کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 393
ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" اہل علم کا اس مسئلے پر اجماع ہے،اصول وضابطہ اس کا متقاضی ہے،[1] کیونکہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: "وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ""کوئی (بوجھ اٹھانےوالا )کسی دوسرے کابوجھ نہ اٹھائےگا ۔"[2] چونکہ خطائیں اکثر طور پر انسان سےسرزد ہوتی رہتی ہیں جس میں انسان کاارادہ شامل نہیں ہوتا،چنانچہ قتل خطا میں قاتل پردیت کا بوجھ ڈالنا زیادتی ہے،اس لیے حکمت کا تقاضا ہوا کہ اس کی ادائیگی عاقلہ(عصبہ ورثاء) پر ڈال دی جائے تاکہ قاتل کے ساتھ ہمدردی اور تعاون ہوسکے۔یہ تخفیف اس لیے کی گئی ہے کہ وہ معذور ہے جبکہ عمداً قتل کرنے والا معذور نہیں،اس لیے اس پر تخفیف بھی نہیں،پھر ایسے شخص پر تو قصاص تھا جب اسے معافی مل گئی تو اسے اپنی جان کے عوض میں دیت کی ادائیگی بھی خود برداشت کرنا ہوگی اور یہ دیت فوری ادا کی جائے گی جس طرح دیگر امور میں ہونے والے نقصانات کا تاوان ادا کیا جاتا ہے۔ (3)۔اسی طرح قتل شبہ عمد ہو یا قتل خطا دونوں میں دیت قاتل کے عاقلہ(عصبات) کے ذمے ہے۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتیں لڑ پڑیں۔ایک نے دوسری کو پتھر مار کر اسے اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو قتل کردیا۔ "قَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا" ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا کہ مقتولہ کی دیت قاتلہ عورت کے عصبہ ورثاء پر ہے۔‘‘ [3] اس روایت سے واضح ہوا کہ قتل ِ شبہ عمد کی دیت قاتل کے عصبہ ورثاء کے ذمے ہے۔الغرض قتل شبہ عمد ہو یا قتل ِخطا ان دونوں صورتوں میں دیت کی ذمے داری قاتل کے عصبہ ورثاء پر ہے۔امام ا بن منذر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔"ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی بات نقل کی ہے۔ اسی طرح کوئی سویا ہوا شخص پہلو بدلتے ہوئے کسی انسان پر گر پڑے جس سے دوسرا مرجائے یا کسی نے راستے میں تعدی کرکے گڑھا کھودا جس میں کوئی گر کر مرگیا تو اس میں ضمان اور تاوان نہ ہوگا۔ (4)۔اگر ایک شخص نے کسی کو ایسی سزادی جس کی اسے شرعاً اجازت تھی لیکن سزا کی وجہ سے آدمی ہلاک ہوگیا تو سزا دینے والا شرعاً ضامن نہ ہوگا،مثلاً:باپ نے بیٹے کو یا شوہر نے بیوی کو تمیز سکھانے کی خاطر سزا دی یا حاکم نے اپنی رعایا میں سے کسی کو سزا دی جو معمول کے مطابق تھی،یعنی اس میں زیادتی سے کام نہ لیا گیا تھا تو سزا دینے وا لے پر [1] ۔المغنی والشرح الکبیر:9/482۔ [2] ۔الانعام 6/164۔ [3] ۔صحیح البخاری، الدیات، باب جنین المراۃ وان العقل علی الولد۔۔۔، حدیث 6910۔وصحیح مسلم القسامۃ والمحاربین، باب دیۃ الجنین حدیث1681۔