کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 369
مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ ۗ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿٩٢﴾ وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا" ’’کسی مومن کو دوسرے مومن کا قتل کر دینا زیبا نہیں مگر غلطی سے ہو جائے (تو اور بات ہے۔) جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے، اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچانا ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وه لوگ بطور صدقہ معاف کر دیں اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا ہو اور وه مسلمان ہو تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنی لازمی ہے۔ اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد و پیماں ہے تو خون بہا لازم ہے، جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا (بھی ضروری ہے)، پس جو نہ پائے اس کے ذمے دو مہینے کے لگاتار روزے ہیں، اللہ تعالیٰ سے بخشوانے کے لیے اور اللہ تعالیٰ بخوبی جاننے والا اور حکمت والا ہے ، اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وه ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ کا غضب ہے، اور اس پر اللہ نے لعنت کی ہے اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار رکھا ہے۔‘‘[1] البتہ قتل شبہ عمد سنت مطہرہ سے ثابت ہے، چنانچہ عمرو بن شعیب کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظٌ، مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ, وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ, وَذَلِكَ أَنْ يَنْزُوَ الشَّيْطَانُ بَيْنَ النَّاسِ فَتَكُونُ دِمَاءٌ في عِمِّيَّا فِي غَيْرِ ضَغِينَةٍ, وَلَا حَمْلِ سِلَاحٍ " قتل شبہ عمد کی دیت قتل عمد کی طرح سخت ہے، البتہ اس میں قاتل کو قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان دو آدمیوں کے درمیان کود پڑتا ہے جس کے نتیجے میں قتل کا ارتکاب ہو جا تا ہے۔حالانکہ ان دونوں (قاتل اور مقتول)کے درمیان پہلے سے دشمنی نہیں تھی اور ہتھیار بھی نہیں اٹھائے گئے۔"[2] عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’(بعض صورتوں میں) غلطی سے ہوجانے والا قتل جو قتل عمد سے مشابہ ہواسے شبہ عمد کہتے ہیں، مثلاً: جو کوڑا یا عصا لگنے سے قتل ہو جاتا ہے۔ اس میں دیت سو [1] ۔النساء:4/92۔93۔ [2] ۔سنن ابی داؤد ،الدیات، باب دیات الاعضاء، حدیث:4565۔ومسند احمد 2/183۔