کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 33
خریدی ہوئی چیز کی قبضے سے پہلے ہی خرید وفروخت آئندہ صفحات میں ہم ان مسائل کا ذکر کریں گے جو خریدی ہوئی چیز کو قبضے میں لینے سے پہلے ہی فروخت کرنے سے متعلق ہیں اور بتائیں گے کہ اس میں کون سی صورت جائز اور کون سی ناجائز ہے اور کس صورت میں قبضہ صحیح شمار ہوگا اور کس میں صحیح شمار نہ ہوگا۔ ائمہ کرام کا اس امر پر اتفاق ہے کہ کسی شے کی بیع کرلینے کے بعد اور اس پر قبضہ کرنے سے پہلے اسے فروخت کرنا جائز نہیں بشرطیکہ اس کا تعلق ماپ،ناپ،وزن اور گنتی سے ہو۔اسی طرح جو چیزیں ان کے علاوہ ہیں ان کابھی صحیح اور راجح قول کے مطابق یہی حکم ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ" "جس نے اناج خریدا وہ اس وقت تک فروخت نہ کرے جب تک(اس کا ناپ اور وزن کرکے) اسے پوراحاصل نہ کرلے۔"[1] ایک روایت کے الفاظ ہیں: "حتى يقبضه"یہاں تک کہ اسے اپنے قبضے میں کرلے۔ایک اور روایت کے الفاظ ہیں:"حَتَّى يَكْتَالَهُ "یہاں تک کہ اس کاماپ کرلے۔"[2] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے:"وأحسب كل شيء مثله""(کھانے کی اشیاء کے علاوہ) ہر چیز کا میں یہی حکم سمجھتا ہوں۔"[3] بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان ہے : "إذا اشتريت بيعا(شیئا) فلا تبعه حتى تقبضه" "جب بھی کوئی شے خریدو تو اس پر قبضہ کیے بغیر آگے فروخت نہ کرو۔[4] [1] ۔صحیح البخاری، البیوع، باب الکیل علی البائع والمعطی،حدیث 2126۔وصحیح مسلم البیوع باب بطلان بیع المبیع قبل القبض حدیث 1525۔ [2] ۔ صحیح البخاری، البیوع باب ما یذکر فی بیع الطعام۔۔۔۔،حدیث2133و صحیح مسلم البیوع باب بطلان بیع المبیع قبل القبض حدیث 1525۔ [3] ۔جامع الترمذی البیوع باب ماجاء فی کراھیۃ بیع الطعام حتی یستوفیہ بعد الحدیث 1291۔ [4] ۔مسند احمد 3/402۔