کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 326
لعان کے احکام اللہ تعالیٰ نے حرام قراردیا ہے کہ کوئی شخص کسی پاکدامن عورت یا مرد پر زنا کا الزام لگائے ۔نیز ایسا کرنے والےکو سخت سزا کا مستحق قراردیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿٢٣﴾ يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿٢٤﴾ يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللّٰهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ" ’’بلاشبہ جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی ایمان والی عورتوں پر(زناکی) تہمت لگاتے ہیں وه دنیا وآخرت میں ملعون ہیں اور ان کے لیے بڑا بھاری عذاب ہے ۔ جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے جو وہ کرتے تھے، اس دن اللہ انہیں پورا پورا بدلہ حق و انصاف کے ساتھ دے گا اور وه جان لیں گے کہ بےشک اللہ ہی حق ہے (اور وہی حق کو)واضح کرنے والاہے۔ ‘‘[1] اللہ تعالیٰ نے تاکید کی ہے کہ زنا کی تہمت لگانے والا شخص اگر اپنے بیان کے حق میں چار گواہ پیش نہ کر سکے تو اسے اسی(80) کوڑے لگائے جائیں۔ علاوہ ازیں وہ شخص فاسق شمار ہو گا اور آئندہ اس کی گواہی بھی قبول نہ ہوگی الایہ کہ وہ توبہ کر لے اور اپنی اصلاح کر لے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿٤﴾ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللّٰهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ" ’’جو لوگ پاکدامن عورتوں پر( زنا کی) تہمت لگائیں، پھر چار گواه نہ پیش کرسکیں تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور تم کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ یہ فاسق لوگ ہیں ۔ ہاں! جو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کرلیں تو بے شک اللہ بخشنےوالا ، مہربانی کرنےوالاہے۔‘‘[2] یہ جملہ احکام اس صورت میں ہیں جب کوئی اپنی بیوں کے علاوہ کسی اور عورت پر تہمت لگائے ،اس صورت میں اس کے خلاف یہ سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اگر وہ اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے گا تو اس کا حل اور علاج [1] ۔النور:24/23۔25۔ [2] ۔النور:24/4۔5