کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 28
نے شرط خیار ختم کردی تھی،اس کا اختیار ختم ہوجائے گا اور بیع لازم ہوجائے گی۔اختیار کی شرط لگانا عقد کرنے والے کا حق تھا تو اس کے خود ساقط کرنے سے ساقط ہوجائے گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ۔۔۔۔۔۔ ، أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ" "جب تک جدا نہ ہوں،یعنی وہ اکھٹے ہوں یا ایک دو سرے کو اختیار نہ دے دیں۔"[1] دونوں میں سے ہر شخص پر حرام ہے کہ وہ اپنے بھائی کی مجلس سے اس لیے الگ ہو کہ اسے بیع کے فسخ کرنے کا اختیار نہ رہے جیسا کہ عمروبن شعیب رحمۃ اللہ علیہ کی مرفوع روایت میں ہے: "وَلاَ يَحِلّ لَهُ أنْ يُفَارِقَ صاحبه خَشْيةَ أنْ يَسْتَقِيلَهُ" "کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے ساتھی سے بیع کے بعد اس ڈر سے الگ ہو کہ وہ اسے سودا واپس نہ کردے۔"[2] شرط اختیار:بائع اور مشتری دونوں اختیار کی مجلس میں بیع کے دوران یا بیع کے بعد ایک مقررہ مدت تک اختیار کی شرط لگائیں تو دونوں کو اس مدت مقررہ کے اندر بیع کے قائم رکھنے یا سے فسخ کرنے کا اختیار ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "المُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ""مسلمان باہم طے شدہ شرائط کی پاسداری کریں ۔"[3] نیز اللہ تعالیٰ کا حکم عام ہے: " يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ""اے ایمان والو! عہد وپیمان پورے کرو۔"[4] اگر اختیار کی شرط ایک فریق کے لیے ہوا اور دوسرے کے لیے نہ ہوتو بھی بیع جائز اور درست ہے کیونکہ اختیار کا حق دونوں کے لیے تھا،چنانچہ وہ جیسے بھی راضی ہوجائیں جائز ہے۔ اختیار نقصان: جب کسی شخص کو کسی سودے میں معمول کے خلاف زیادہ نقصان دیا گیا ہوتو اسے بھی اس بیع کو قائم رکھنے یا واپس کرنے کا اختیار ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے: "لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ""نہ نقصان اٹھاؤ اور نہ نقصان پہنچاؤ۔"[5] [1] ۔صحیح البخاری البیوع باب اذا خیر احدھما صاحبہ بعدالبیع فقد وجب البیع،حدیث 2112۔ [2] ۔سنن ابی داود البیوع باب فی خیار المتبایعین حدیث 3456 وجامع الترمذی البیوع باب ماجاء :البیعان بالخیار مالم یتفرقا حدیث 1247۔ [3] ۔جامع الترمذی الاحکام باب ماذکر عن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فی الصلح بین الناس،حدیث :1352۔ [4] ۔المائدۃ:1:5۔ [5] ۔سنن ا بن ماجہ الاحکام باب من بنی فی حقہ مایضر بجارہ حدیث:2341،ومسند احمد:1/313۔