کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 259
(3)۔عورت کا نکاح اس کا سر پرست کرے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "لاَ نِكاحَ إِلاّ بِوَلِي""سر پرست (ولی) کے بغیر اس کا نکاح نہیں ہوتا۔"[1] اگر کسی عورت نے سر پرست کے بغیر نکاح کر لیا تو اس کا نکاح باطل ہے کیونکہ یہ زنا کا ذریعہ ہے، نیز (مسلمان )عورت ولی کی نسبت بہتر خاوند کی تلاش سے قاصر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کے اولیاء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "وَأَنكِحُوا الأَيَامَى مِنْكُمْ ""تم میں سے جو مرد عورت بے نکاح کے ہوں ان کا نکاح کردو۔"[2] اور فرمان الٰہی ہے:"فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ " "چنانچہ انھیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔"[3] عورت کے سر پرستوں کی ترتیب یوں ہے: باپ ،باپ کا متعین کیا ہوا شخص ،دادا ،پر دادا اوپر تک ،بیٹا ، پوتا، سگا بھائی ، علاتی بھائی یا ان کی اولاد ، سگا چچا اور ان کے بیٹے ، علاتی چچا اور ان کے بیٹے ،عصبہ نسبی میں سے میراث کی ترتیب سے کوئی قریبی قرابت دار، پھر معتق اور حاکم و قاضی ۔ (4)۔ عقد نکاح پر گواہ موجود ہوں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ" "ولی اوردو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہو تا۔"[4] امام تکرمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یہی تھا۔ اسی طرح ان کے بعد کے تابعین عظام کا نقطہ نظر بھی یہی تھا کہ گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ اس کے بارے میں سلف صالحین کے مابین کوئی اختلاف نہ تھا ،البتہ بعض متاخرین اہل علم نے اس مسئلے میں اختلاف کیا ہے۔‘‘ [5] نکاح میں میاں بیوی کا کفو ہونا "کفو" کے معنی ہیں"برابر اور ایک جیسا ہونا"اور یہاں خاوند بیوی کے درمیان برابری مراد ہے۔خاوند اور بیوی [1] ۔سنن ابی داؤد، النکاح، باب فی الولی حدیث 2085 وجامع الترمذی النکاح باب ماجاء لا نکاح الا بولی حدیث 1101 وسنن ابن ماجہ النکاح باب لا نکاح الا بولی، حدیث 1880۔ومسند احمد:1/250۔ [2] ۔النور:24/32۔ [3] ۔البقرۃ:2/232۔ [4] ۔سنن الدارقطنی 3/158۔حدیث 3492۔وموارد الظمان 4/170۔حدیث 1247۔ [5] ۔جامع الترمذی النکاح باب ماجاء لا نکاح الا ببینۃ ،تحت حدیث1104۔