کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 184
احکام وراثت وراثت کا موضوع نہایت اہم اور قابل اعتناء ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں اس علم کو سیکھنے اور سکھانے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا فَإِنَّهُ نِصْفُ الْعِلْمِ، وَهُوَ يُنْسَى، وَهُوَ أَوَّلُ شَيْءٍ يُنْزَعُ مِنْ أُمَّتِي"  "علم فرائض سیکھو اور اسے (لوگوں کو) سکھاؤ کیونکہ یہ نصف علم ہے اور اسے بھلا دیا جائے گا۔ اور علم میں سے یہی وہ پہلی شے ہو گی جسے میری امت سے اٹھا لیا جائے گا۔"[1] ایک روایت میں ہے: "فَإِنِّي امْرُؤٌ مَقْبُوضٌ وَالْعِلْمُ سَيُقْبَضُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ حَتَّى يَخْتَلِفَ اثْنَانِ فِي فَرِيضَةٍ لَا يَجِدَانِ أَحَدًا يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا" "میں ایسا انسان ہوں جس کی روح قبض کرلی جائے گی اور بے شک علم اٹھالیا جائے گا۔فتنے ظاہر ہوں گے حتی کہ دو آدمی مسئلہ وراثت میں اختلاف کریں گے۔ لیکن کوئی فیصلہ کرنے والا نہ پائیں گے۔[2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسے فرمایا تھا اب ویسی ہی صورت حال نظر آرہی ہے۔ علم میراث نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اکثر لوگ اسے بھول چکے ہیں۔ آج مساجد و مدارس میں شاذ ونادر ہی اسے پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔اگر کہیں پڑھایا بھی جاتا ہے تو ایسے ناقص اور سرسری انداز میں کہ حقیقی مقصد نہیں ہو رہا اور نہ اس سے اس کی بقا کا یقین حاصل ہوتا ہے۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس علم کو زندہ کرنے کے لیے کمر بستہ ہوں اور اس کے محافظ بنیں ۔ مساجد و مدارس اور جامعات میں اس کی تعلیم کا اہتمام کریں کیونکہ لوگوں کو اس علم کی اشدضرورت ہے۔ خصوصاً اہل علم پر اس کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] ۔(ضعیف)سنن ابن ماجہ، الفرائض، باب الحث علی تعلیم الفرائض ،حدیث2719۔وسنن الدارقطنی۔4/66حدیث4014۔ [2] ۔(ضعیف) جامع الترمذی الفرائض باب ماجاء فی تعلیم الفرائض ،حدیث 2091وسنن الدارمی ،المقدمۃ، باب الاقتداء بالعلماء ،حدیث 227 واللفظ لہ۔