کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 173
صاحب حق اپنے حق سے دستبردار ہوتا ہے تو درست ہے۔ اور ان کی اس اجازت کا اعتبار موت کے بعد ہو گا۔ احکام وصیت میں سے یہ حکم بھی ہے کہ ورثاء میں سے کسی وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "لَاوَصِيَّةَ لِوَارِثٍ" "وارث کےحق میں وصیت نہیں۔[1] شیخ تقی الدین ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’امت کا اس مسئلے پر اجماع ہے۔"[2]اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فر ماتے ہیں:"یہ حدیث متواتر ہے۔"مزید فرماتے ہیں کہ ہم نے اہل فتوی کو اور ان اہل علم کو جن سے ہم نے علم حاصل کیا ہے قریش وغیر قریش میں سے ایسے پایا ہے کہ ان میں اس بات پر کوئی اختلاف نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا:’’وارث کے لیے وصیت نہیں ہے۔‘‘ اور اسی کو وہ اہل علم سے نقل کرتے ہیں جن سے ان کی ملاقات ہوئی ہے۔‘‘[3] البتہ ورثاء کی اجازت ہو تو ایسا کرنا درست ہے کیونکہ وہ خود اپنا حق کسی کوبخوشی دے رہے ہیں اور اسی طرح غیر وارث کے حق میں وصیت اور وارث کے حق میں ایک تہائی کی وصیت کی اجازت ورثاء کی طرف سے اس وقت معتبر ہو گی جب مرنے والا مرض الموت میں مبتلا ہو یا وفات پا چکا ہو۔" احکام وصیت میں سے یہ بھی ہے کہ وصیت وہ شخص کرے جس کے پاس مال کثیر مقدار میں ہے اور اس کے ورثاء محتاج نہ ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ" ""تم پر فرض کر دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کوئی مرنے لگے اور مال چھوڑے جا رہا ہو تو وصیت کر جائے۔[4] اور عرفا "خیر"سے مراد "مال کثیر"ہے۔اگر صورت حال اس کے برعکس ہوتو وصیت کرنا مکروہ ہے کیونکہ اس سے محتاج اقارب کو چھوڑ کر غیروں کو نوازنا لازم آتا ہے جو درست نہیں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا: "إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ " "اپنے ورثاء کو مالدار بنا کر چھوڑجانا بہتر ہے اس سے کہ انھیں ایسی حالت میں چھوڑو کہ وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلائیں۔"[5] [1] ۔ سنن ابی داؤد، الوصایا باب ماجاءفی الوصیہ للوارث، حدیث 2870،وجامع الترمذی، الوصایا، باب ماجاء لاوصیۃ لوارث ۔حدیث 2120۔ومسند احمد 4/186۔187۔ [2] ۔ منہاج السنہ النبویہ 2/160۔ [3] المجموع للنووی 16/374۔ [4] ۔البقرۃ:2/180۔ [5] ۔صحیح البخاری الجنائز باب رثاء النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم سعد بن خولہ، حدیث 1295۔