کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 162
(10)۔وقف کا فسخ جائز نہیں کیونکہ وہ ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے۔اسی طرح اسے فروخت یا کسی اور کو منتقل نہیں کیا جاسکتا،البتہ اگرجگہ کے ویران ہونے کی وجہ سے وقف سے فائدہ حاصل کرناممکن نہ رہے،مثلاً:وقف شدہ گھر گرگیا اور وقف کی آمدنی سے اس کی تعمیر ممکن نہیں یا زرعی زمین تھی جو ویران وبنجر ہوگئی اور وقف آمدنی سے اس کی تعمیر وآبادی ممکن نہ ہوتو اس حال میں وقف کو فروخت کیا جائے گا اور اس کی قیمت اس کے مثل میں لگائی جائےگی کیونکہ یہ صورت وقف کرنے والے کے مقصد کے قریب ترین ہے۔اگر اسی طرح کی شے ممکن نہ ہوسکے تو اس کے قریب قریب ہی ہوجانی چاہیے اور متبادل شے خریدنے کے ساتھ ہی وقف ہوجائے گی۔ (11)۔اگرکوئی مسجد وقف تھی لیکن اس جگہ میں مسجد مفید اورکارآمد نہ رہی،یعنی وہاں کی آبادی ویران ہوگئی تو اسے فروخت کرکے اس کی قیمت سے دوسری جگہ مسجد بنادی جائے یا وہ رقم دوسری مسجد پرخرچ کی جائے۔اگرکسی مسجد کے لیے کوئی شے وقف ہوتو جب اس وقف شدہ شے کی آمدن مسجد کی ضروریات سے زائد ہے تو زائد آمدن کسی دوسری مسجد پر صرف کردی جائے کیونکہ وقف کا مقصد یہی تھا۔مسجد پروقف شے اگر غلہ واناج ہے تو مسجد کی ضروریات سے زائد فقراء مساکین پر صرف کیا جاسکتا ہے۔ (12)۔جب موقوف علیہ معین فرد ہو،مثلاً: کوئی کہے:"یہ زمین زید کے لیے وقف ہے،اسے ہر سال سو من گندم دی جائے۔"تو اگر اس کی پیداوار اس مقرر حد سے زائد ہوتو زائد کو سنبھال کررکھنا ضروری ہے۔ شیخ تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اگر معلوم ہوکہ اس کی پیداوار ہمیشہ مقررہ مقدار سے زیادہ ہوتی ہے تو اس زائد پیداوار کوفی سبیل اللہ خرچ کردیا جائے کیونکہ اس کو بچا کررکھنے سے اس کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔" (13)۔اگر کوئی شے کسی ایسی مسجد کے لیے وقف کی گئی جو ویران ہوگئی اور وقف شدہ شے کو وہاں خرچ کرنے کا کوئی فائدہ نہ رہا تو اس مال کو اس جیسی دوسری مسجد پر صرف کردیا جائے۔ ہبہ اور عطیے کا حکم کسی عاقل بالغ جائز التصرف شخص کا کسی کو اپنی زندگی میں معلوم مال و متاع تبرعاً(اپنی خوشی سے)دے دینا "ہبہ" کہلاتا ہے، جیسے ایک مسلمان کسی کومکان یا کچھ روپے دے دے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ (عطیہ)دیتے اور لیتے تھے۔سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہدیہ و ہبہ کی نہایت رغبت دلائی گئی ہے کیونکہ اسلامی معاشرے پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:"تهادَوْا تحابُّوا"