کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 158
"اگرتم چاہو تو اپنا اصل مال وقف کردو اور اس(کے نفع) کو صدقہ کردو۔"[1] چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اس طرح صدقہ کیاکہ اس کا اصل بیچا جائے نہ ہبہ کیا جائے اور نہ میراث بنایا جائے۔ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلا مِنْ ثَلاثَةٍ : إِلا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ " "جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کے عمل منقطع ہوجاتے ہیں مگر تین چیزیں جاری رہتی ہیں:صدقہ جاریہ،علم جس سے فائدہ حاصل کیا جارہا ہے یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔"[2] سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:"صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے اگر کوئی صاحب استطاعت ہوتا تو وہ ضرور کچھ نہ کچھ وقف کرتا۔"[3] امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"مساجد اور پلوں کو وقف قراردینے میں علماء کے درمیان قطعاً اختلاف نہیں،البتہ دوسری چیزوں میں اختلاف ہے۔"[4] (1)۔وقف کی شرائط میں سے ہے کہ وقف کرنے والا وقف کرنے کا اہل اور صاحب اختیار ہو،یعنی عاقل وبالغ اور آزاد ہو،لہذا نادان،بچے اور غلام کا کوئی شے وقف کرنا صحیح نہیں۔ (2)۔وقف کا انعقاد دو صورتوں میں سے کسی ایک صورت کے ساتھ ممکن ہے: (1)۔الفاظ کے ساتھ وقف ہومثلاً: کوئی کہے:"میں نے یہ مکان وقف کیا۔"یا"میں نے اس جگہ کو مسجد بنادیا ہے۔" (2)۔وقف کرنے والا کوئی ایسا کام یا انداز اختیار کرے جو عرف میں وقف پر دلالت کرتا ہو،مثلاً: کوئی اپنے گھر کو مسجد قراردےدے اور لوگوں کو وہاں نماز ادا کرنے کی عام اجازت دے یاکوئی شخص اپنی زمین کو قبرستان بنادے اور وہاں عام لوگوں کو مردے دفن کرنے کی اجازت دے دے۔ (3)۔جوالفاظ "وقف"پر دلالت کرتے ہیں،ان کی دو قسمیں ہیں: (1)۔صریح الفاظ کے ساتھ ہو،یعنی"وقف" کا لفظ استعمال کیاجائے یا ایسا لفظ جس کامفہوم وقف کے علاوہ اورکوئی نہ [1] ۔صحیح البخاری الشروط باب الشروط فی الوقف حدیث 2737 وصحیح مسلم الوصیۃ باب الوقف حدیث 1632۔ [2] ۔صحیح مسلم، الوصیۃ، باب مایلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ؟حدیث 1631۔ [3] ۔منار السبیل ،ص 397۔ [4] ۔تفسیر القرطبی 19/22۔الجن 72/18۔