کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 157
لے یا معاف کردے۔ (8)۔لقیط کے بارے میں اگر کوئی مرد یا عورت دعویٰ کرےکہ یہ میرابیٹا ہے تو اس صورت میں اگراس کابیٹا ہونا ممکن ہوتواس کادعویٰ تسلیم کرلیا جائے گا کیونکہ بچے کے نسب کے اتصال میں بچے کا فائدہ ہے اور کسی دوسرے کا نقصان بھی نہیں۔اوراگر بہت سے لوگ دعویٰ کرتے ہیں تو ان میں سے جو شخص دلیل پیش کرے گا وہ مقدم اورراجح ہوگا۔ اگر کسی کے پاس واضح دلیل نہ ہو اور متعدددعوےداروں کے دلائل میں تعارض ہوتو فیصلہ کسی قیافہ شناس سے کرایا جائے گا جو انصاف پسند،سمجھ دار اور تجربہ کارہو۔اور قیافہ شناس جس کے ساتھ نسب ملا دے اسی کے لیے فیصلہ کردیا جائے گا کیونکہ ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں ایک قیافہ شناس کے فیصلے کی بنیاد پر فیصلہ کیا تھا۔[1]واللہ اعلم۔ وقف کا حکم کسی چیز(اصل) کو (بیع ،وراثت اور ہبہ سے مستثنیٰ قراردے کر) محفوظ کرلینا اور اس کی آمدنی اور فائدہ کسی خاص مد کے لیے فی سبیل اللہ متعین کرنا وقف کہلاتا ہے۔ واضح رہے اصل چیز سے مراد ایسی شے ہے جس سے استفادہ ممکن ہو اوراستفادے کے بعد بھی وہ شے باقی رہے ،مثلاً: مکان،دکان اور باغ وغیرہ۔اورنفع سے مراد اس چیز کی آمدنی اور فائدہ ہے،مثلاً:پھل،کرایہ،گھر کی رہائش وغیرہ۔ اسلام میں وقف کرنامستحب ہے اور اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے ۔جس کی دلیل سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہے۔چنانچہ حدیث میں ہے کہ"سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشورے کے لیے حاضر ہوئے اور عرض کی:اے اللہ کے رسول!مجھے خیبر میں جو زمین ملی ہے،اس سے بہتر اور نفیس مال میرے ہاں اور کوئی نہیں۔اس کے بارے میں میرے لیے آپ کا کیا مشورہ ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا " [1] ۔ایک قیافہ شناس کی زبان سے جب یہ بات نکلی کہ زید بن حارثہ اور اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دونوں باپ بیٹا ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر بہت خوش ہوئے تھے۔دیکھیے صحیح بخاری حدیث 3555۔(صارم)۔