کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 151
اگر اسے پہچاننے والا(مالک) نہ آئے تو اس سے(خرچ کرکے) فائدہ اٹھالے۔لیکن پھر وہ شے تیرے پاس امانت رہے گی۔اگراس کامالک کسی وقت بھی آجائے تو اسے وہ شے(یااس کی قیمت) دے دے۔"پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا:"تجھے اس سے کیا سروکار؟اس کے پاس پانی کے لیے مشکیزہ ہے۔اس کے پاؤں مضبوط ہیں،تالاب سے پانی حاصل کرے گا اور درختوں کے پتے کھالے گا یہاں تک کہ اس کا مالک آکر اسے پکڑ لے۔"پھر آپ سے گم شدہ بکری کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:"تو اسے پکڑ لے،وہ یا تو تیرے لیے ہے یا تیرا بھائی اس کا مالک بن جائے گا یا پھر اسے بھیڑیا کھا جائے گا۔"[1] حدیث میں مذکور لفظ: "عِفَاصَ" اور"وِكَاءَ" کے معنی ہیں:"نفقہ وغیرہ کا تھیلا اوراس کا منہ باندھنے والی رسی (ڈوری)"اور حدیث کے لفظ: "ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً"کا مفہوم ہے کہ گم شدہ چیز کو سال بھر متعارف کروائے،اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کے جمع ہونے والے مقامات،یعنی ڈیروں،بازاروں،مساجد کے دروازوں اور اجتماع گاہوں میں اس کا اعلان کرے جو ایک سال تک ہو، پہلے ہفتے میں ہر روز اعلان کیا جائے کیونکہ پہلے ہفتے میں مالک کے آنے کی توقع زیادہ ہوتی ہے۔ایک ہفتے کے بعد حسب عادت اس کا اعلان وقتاً فوقتاً کرتارہے۔ (3)۔ حدیث مذکور کے کلمات سے واضح ہوتا ہے کہ گم شدہ شے کا اعلان وتعارف کروانا واجب ہے حتیٰ کہ شے کا مالک آجائے۔اگر وہ ٹھیک ٹھیک علامات بتادے تو شے اس کے حوالے کردی جائے وگرنہ اس کے حوالے کرنا جائز نہیں۔ (4)۔حدیث مذکور سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایک سال تک اعلان کرنے کے بعد جسے شے ملی ہے وہ اس کا مالک ہو گا لیکن اس کو استعمال میں لانے سے قبل اس کی تھیلی ،تسمہ،مقدار،جنس اور مزید امتیازی علامات ونشانات کو دل ودماغ میں یاتحریری طور پر محفوظ کرلے۔اگر سال کے بعد اصل مالک آگیا اور اس نے شے کی ٹھیک ٹھیک علامات بتادیں تو اس کے حوالے کردے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی حکم ہے۔ سابقہ حدیث سے لقطے کے بارے میں چند امور کی وضاحت ہوتی ہے: (5)۔اگر کسی کو کوئی گری پڑی شے ملے تو وہ اسے اٹھانے کی کوشش نہ کرے الا یہ کہ اسے اپنے آپ پر امانت ودیانت کا بھروسہ ہو اور اعلان کرنے کی ہمت وطاقت رکھتاہو یہاں تک کہ اس کا مالک مل جائے۔اگراسے اپنی امانت خطرے میں محسوس ہوتو اس شے کو اٹھانا جائز نہیں،اگر اس نے وہ شے اٹھا لی تو وہ غاصب شمار ہوگا کیونکہ اس نے کسی [1] ۔صحیح البخاری، العلم، باب الغضب فی الموعظۃ والتعلیم اذارای ما یکرہ، حدیث 91،وصحیح مسلم ،اللقطۃ، باب معرفۃ العفاص والوکاء وحکم ضالۃ الغنم والابل حدیث: 1722۔