کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 149
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَا لَكَ وَلَهَا؟ مَعَهَا سِقَاؤُهَا، وَحِذَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا" "تم اسے کیوں پکڑتے ہو؟حالانکہ اس کے ساتھ اس کا مشکیزہ(بڑا پیٹ) ہے اور اس کا جوتا ہے ،وہ خود ہی پانی پی لے گا اور درختوں سے پتے کھالے گا حتیٰ کہ اس کا مالک اسے پالے۔"[1] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے:’’جس نے گم شدہ جانور(اونٹ وغیرہ) پکڑا وہ شخص گمراہ ہے۔‘‘ [2] یعنی غلطی کا ارتکاب کررہا ہے،لہذا اسے ہرگز نہیں پکڑنا چاہیے۔ درج بالا جانوروں کے علاوہ بڑے سائز کا سامان بھی اسی حکم میں شامل ہے،بڑی دیگ ،لوہا،بھاری مقدار کی لکڑی وغیرہ یا جو چیز خود ہی محفوظ رہے وہ نہ ضائع ہوسکتی ہو اور نہ اپنی جگہ سے منتقل ہوسکتی ہو اسے اٹھانا یا پکڑنا ناجائز ہے۔ (3)۔گم شدہ عام مال ہو،مثلاً:نقدی،عام سامان یا چھوٹے جانور جو درندوں سے خود دفاع اور بچاؤ نہیں کرسکتے،جیسے بکری ،بچھڑا،اونٹ کا بچہ وغیرہ۔اس قسم کی اشیاء یا جانوروں کو جو شخص پائے اگر اسے اپنی امانت ودیانت پر اعتماد ہوتو اٹھالے۔ایسی اشیاء کی تین قسمیں ہیں: پہلی قسم: ایسا حیوان جس کا گوشت کھایا جاتا ہو،مثلاً:اونٹ کا بچہ،بکری اور مرغی وغیرہ۔ان گم شدہ جانوروں کو جو پکڑے اس کے لیے تین درج ذیل صورتیں ہیں،ان میں سے وہ صورت اختیار کی جائے جس میں مالک کا فائدہ زیادہ ہو۔ (1)۔اسے ذبح کرکے کھالے اور اس کی موجودہ قیمت مالک کو(جب بھی ملے) ادا کردے۔ (2)۔پہچان کی خاطر اس جانور کی امتیازی علامات محفوظ کرلے،پھر اسے بیچ کر اس کی قیمت سنبھال کررکھ لے تاکہ اس کے مالک کو بوقت ملاقات دی جاسکے۔ (3)۔اس جانور کی حفاظت کرے۔حسب ضرورت اس پر خرچ کرے تاکہ اس کی نگرانی وحفاظت ہوتی رہے۔خود کو اس کا مالک نہ سمجھے۔اگرمالک آجائے تو اس کا جانور اس کے حوالے کردے اور اس پر ہونے والے اخراجات وصول کرلے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: [1] ۔صحیح البخاری العلم باب الغضب فی الموعظۃ والتعلیم اذا رای ما یکرہ حدیث 91،وصحیح مسلم اللقطۃ باب معرفۃ العفاص والوکاء وحکم ضالۃ الغنم والابل ،حدیث 1722واللفظ لہ۔ [2] ۔السنن الکبریٰ للبیہقی 6/191۔