کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 148
نیز امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"جس نے کسی کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر کام کیا تاکہ اس کام کے ذریعے سے دوسرے تک پہنچا جائے یا مالک کے مال کی حفاظت یا اس کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے کوئی کام کرے تودرست بات یہی ہے کہ اسے کام کی مزدوری دی جائے گی۔امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے کئی مواقع پر اس کی تصریح کی ہے۔"[1] "لُقَطَه" کے احکام "لُقَطَه" سےمراد ایسی گری پڑی چیز جو مالک سے گم ہوجائے۔ یاد رکھیے!دین اسلام نے مال کی حفاظت اور اس کا خیال رکھنے کی تعلیم دی ہے اور مسلمانوں کے مال کا احترام اور اس کی محافظت کادرس دیا ہے۔اسی میں سے ایک"لُقَطَه" ہے۔ گمشدہ چیز تین حالتوں سے خالی نہ ہوگی: (1)۔اگر گری پڑی چیز معمولی ہے اور متوسط طبقہ کے لوگ اس کی پروا نہیں کرتے،مثلاً:چابک،روٹی،پھل کا دانہ اور لاٹھی وغیرہ تو اسے اٹھا کر اعلان کیے بغیر فوری طور پراستعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: "رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي العَصَا وَالسَّوْطِ وَالحَبْلِ وَأَشْبَاهِهِ يَلْتَقِطُهُ الرَّجُلُ يَنْتَفِعُ بِهِ" "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گم شدہ لاٹھی،چابک اور رسی وغیرہ میں اجازت دی ہے کہ آدمی اٹھا کر اس سے فائدہ حاصل کرسکتاہے۔"[2] (2)۔وہ حیوان جو چھوٹے درندوں سے اس وجہ سے محفوظ ہوکہ وہ مضبوط اور قد آور ہے،مثلاً:اونٹ،گھوڑا،گائے،خچر وغیرہ یا وہ اڑنے والا ہو،مثلاً:کبوتر یاوہ بہت تیز دوڑتا ہو،مثلاً :ہرن یا وہ اپنا دفاع اپنی کچلیوں سے خود کرسکتا ہو،مثلاً:چیتا وغیرہ۔۔۔یہ مذکورہ قسم کے جانور ایسے ہیں جنھیں پکڑنا ممنوع ہے،ان کو پکڑنے والا اعلان کرنے کے بعد بھی مالک قرار نہ پائے گا،چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ اونٹ کو پکڑنے کے بارے میں پوچھا گیا تو [1] ۔اعلام الموقعین 2/379۔ [2] ۔(ضعیف)سنن ابی داود اللقطۃ باب التعریف باللقطۃ حدیث 1717۔