کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 141
غیر آباد زمین کو آباد کرنے کے احکام غیر آباد اراضی کی آبادی یہ ہے کہ مسلمان ایسی زمینوں کو جو کسی کی ملکیت میں نہ ہوں اور کسی اجتماعی مقصد کے لیے بھی مخصوص نہیں،درخت لگا کر یا مکان تعمیر کرکے یا کنواں لگواکر آباد کرے۔اس طرح وہ اس کا مستحق اور مالک بن جائے گا۔ اس تعریف کی رو سے دو باتیں واضح ہوئیں: (1)۔اگر کوئی زمین مسلمان یا کافر کی قانونی ملکیت ہے(وہ خریدنے سے ہو یا عطیہ وغیرہ سے) تو اسے آباد کرنےسے کوئی مالک نہ ہوگا۔ (2)۔اگر اس زمین سے اجتماعی مصلحت ومفاد وابستہ ہو ،مثلاً:عام راستہ ہو،لوگوں کے بیٹھنے کا ڈیرا ہو،پانی کے چشمے کی جگہ ہویا بارش وغیرہ کے پانی بہنے کی جگہ ہو یا اس کی آبادی سے اہل شہر کی اجتماعی مصلحت پر زد پڑتی ہو،جیسے قبرستان یا کوڑا کرکٹ پھینکنے کے لیے جگہ یا عید گاہ یا لوگوں کے لیے لکڑیاں جمع کرنے کی جگہ یالوگوں کی چراگاہ ہوتو ان تمام جگہوں پر درخت لگا کر یاتعمیر کرکے کوئی شخص مالک نہیں ہوسکتا،البتہ اگرزمین کاکوئی ویران ٹکڑا کسی کی ملکیت میں نہیں اور اسے کسی شخص نے آباد کرلیا تو وہ اس کا مالک ہوجائے گا۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ " "جس نے کسی ویران زمین کو آباد کرلیا وہ اسی کی ہے۔"[1] امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو صحیح کہاہے۔اس مضمون کی اور بھی بہت سی احادیث ہیں جن میں بعض صحیح بخاری بھی ہیں۔ فقہائے اسلام ویران زمینوں کو آباد کرنے والے کو مالک قراردیتے ہیں اگرچہ اس کی شرائط میں اختلاف ہے،البتہ حرم یا عرفات کے بارے میں فقہائے کرام کا نقطہ نظریہ ہے کہ ان اراضی پردرخت لگانے یا تعمیر کرنے والا مالک نہ ہوگا کیونکہ اس میں مناسک حج ادا کرنے میں لوگوں کے لیےمشقت وتکلیف ہوگی اور ایسی جگہوں پر سب کا حق یکساں ہوتا ہے۔ (1)۔غیر آباد جگہ کی آبادی درج ذیل صورتوں سے واضح ہوگی: [1] ۔جامع الترمذی الاحکام باب ماذکر فی احیاء ارض الموات ،حدیث 1379 ومسند احمد 3/381۔