کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 139
اور سیدناعلی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ ان کے مالکوں کے حوالے کردے۔[1] (6)۔اس طرح جس کو موت آجائے اوراس کے پاس لوگوں کی امانتیں ہوں تو اس پر واجب ہے کہ ان کے مالکوں کو واپس کرے اگر مالک نہ مل رہے ہوں توحاکم کے پاس یا جس پر اس کواعتماد ہواس کے پاس رکھ دے۔ (7)۔اگرکسی نے امانت کی حفاظت میں کوتاہی یا تعدی سے کام لیا جس کے نتیجے میں امانت ضائع ہوگئی تو امین شخص پر ضمان لازم ہے،مثلاً:کسی نےجانور بطور امانت اپنے ہاں رکھ لیا اور اس پر چارہ کھلانے اور پانی پلانے کے علاوہ کے لیے سواری کی یا امانت کے طور پررکھا ہواکپڑا خرابی سے بچانے کے علاوہ کے لیے پہن لیا یا دراہم جو تھیلی میں محفوظ تھے انھیں باہر نکال لیا یا تھیلی کا تسمہ کھول لیا۔ان احوال میں اگرامانت ضائع ہوگئی تو وہ ضامن ہوگا کیونکہ اس نقصان میں اس کی تعدی کو دخل ہے۔ (8)۔امانت داردعوی کرے کہ اس نے امانت اس کے مالک یا اس کے قائم مقام کو لوٹادی ہے یا امانت دار دعویٰ کرے کہ اس کے ہاں جو امانت تھی اس کےضائع ہونے میں اس کی کوتاہی نہ تھی تو دونوں صورتوں میں امانت دارکی بات کااعتبار قسم کے ساتھ ہوگا کیونکہ وہ امین ہے۔اور جو کچھ اس کے پاس تھا وہ اللہ تعالیٰ کےفرمان: "إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا" "بے شک اللہ تمھیں (تاکیدی )حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انھیں پہنچاؤ۔"[2] كے مطابق "امانت" تھی، نیز اصل یہ ہے کہ کسی انسان کو سچا ہی سمجھاجاتا ہے الا یہ کہ اس کے جھوٹا ہونے کی دلیل مل جائے۔ اسی طرح اگرامانت دار نے دعویٰ کیا کہ"امانت" آگ لگنے سے یا کسی اور حادثے میں ضائع ہوگئی ہے تو اس کی بات تب قبول ہوگی جب وہ اس حادثے کے واقعہ کے گواہ پیش کرے گا۔ (9)۔ صاحب مال جب بھی امانت دار سے اپنی امانت کی واپسی کا مطالبہ کرے تو اسے فوراً ادا کردی جائے۔اگر اس نے ٹال مٹول کی اورامانت رکھی ہوئی چیز ضائع ہوگئی تو امانت دارضامن ہوگا کیونکہ اس نے بوقت مطالبہ ادا نہ کرکے حرام کام کاارتکاب کیاہے۔واللہ اعلم۔ [1] ۔المغنی والشرح الکبیر: 7/280۔ [2] ۔النساء:4/58۔