کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 134
ہوگا کیونکہ اس نے اس کی حفاظت کے لیے دیوار وغیرہ بنا کر اسے محفوظ نہیں کیا،لہذا یہ اس کی کوتاہی ہے جس وجہ سے وہ ضامن ہے۔ 4۔ جانور رات کے وقت کھول دیا گیا اور اس نے کسی کے کھیت کا نقصان کردیا تو مالک ضامن ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:" " أَنَّ عَلَى أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَأَنَّ مَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا" "دن کو کھیت والے حفاظت کریں اور رات کو جانور جونقصان کرجائیں تو ان کے مالک ذمے دار ہیں۔"[1] اس روایت سے ثابت ہوا کہ اگر ایک شخص کا جانور دوسرے کے کھیت کو دن کے وقت نقصان پہنچادے تو اس پر ضمان نہیں،البتہ اگر کسی نے قصداً جانور کھول کرچھوڑدیا جس سے کسی کے نقصان کا واضح امکان تھا تو جانور کامالک ذمے دار ہوگا۔ امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اہل علم کی یہ رائے ہے کہ اگر کسی کے جانور نے دن کے وقت کسی کھیت کا نقصان کردیا تو مالک ضامن نہ ہوگا۔اوراگررات کو نقصان کیا تو مالک ذمے دارہوگا کیونکہ عموماً یہ ہوتا ہے کہ کھیت یا باغ کے مالک دن کے وقت اپنے کھیت وباغ کی حفاظت کرتے ہیں جبکہ جانوروں کے مالک جانوروں کی حفاظت رات کو کرتے ہیں۔جس نے ایسی عادت ومعمول کی خلاف ورزی کی،زیادتی کی صورت میں ذمے داری اسی پر ہوگی۔واضح رہے یہ تب ہے جب جانور کا مالک جانور کے ساتھ نہ ہوگا وگرنہ جانور کا مالک نقصان کا ذمے دار ہوگا۔"[2] اللہ تعالیٰ نے سیدنا داود علیہ السلام کا ایک قصہ یوں بیان کیا: "وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ ﴿٧٨ فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ ۚ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا ۚ " "اور داؤد اور سلیمان کو یاد کیجئے جب وه کھیت کے معاملہ میں فیصلہ کر رہے تھے کہ کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو اس میں چر چگ گئی تھیں، اور ان کے فیصلے کے ہم شاہد تھے۔ ہم نے اس کا صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا۔اور ہر ایک کو ہم نے حکم وعلم دے رکھا تھا ۔" [3] [1] ۔سنن ابی داود البیوع باب المواشی تفسد زرع قوم،حدیث 3569 ،ومسند احمد: 5/435،436 والموطا للامام مالک،الاقضیۃ ، باب القضاء فی الضواری والحریسۃ 2/311حدیث 1500 واللفظہ لہ۔ [2] ۔تفسیر البغوی: 3/298۔299۔ [3] ۔الانبیاء:21/78،79۔