کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 128
ر۔ عاریتاً لی ہوئی چیز کسی دوسرے کو عاریتاً نہیں دی جاسکتی کیونکہ جو شے ایک شخص کے لیے بطور استعمال مباح قراردی گئی،اسے نہیں چاہیے کہ وہ آگے کسی دوسرے کے لیے مباح قراردے۔اس صورت میں شے کے ضائع ہونے کا خطرہ بھی ہے۔ س۔ اگر عاریتاً لینے والے نے چیز کو،جس مقصد کے لیے لی تھی،اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال کیا کہ جس کی وجہ سے وہ ضائع ہوگئی تو اس میں علمائے کرام کی دورائے ہیں۔علماء کے ایک فریق کا کہنا ہے کہ اس شے کے تلف ہونے میں کوتاہی یا زیادتی ہوئی ہو یا نہ ہو بہرصورت وہ ضامن ہوگا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ " "جو کوئی شے لیتا ہے اس کی ادائیگی اسی کے ذمے ہے۔"[1] مثلاً: کسی نے ایک شخص سے جانور عاریتاً لیا جودوران انتفاع مرگیا یا کپڑا لیا جو جل گیا یا چوری ہوگیا۔اس میں مستعیر مالک کو اس کی مثل یا قیمت ادا کرے گا۔ فریق ثانی کا نکتہ نظریہ ہے کہ اگر اس کے استعمال میں کوتاہی وزیادتی نہ ہوئی تو ضامن نہیں کیونکہ ضمانت تو کوتاہی کی صورت میں ہوتی ہے۔یہ قول درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ عاریتاً شے امانت کے حکم میں ہوتی ہے۔ ش۔ مستعیر پر لازم ہے کہ وہ عاریتاً لی ہوئی شے کی حفاظت کرے اور استفادے کے بعدمالک کو جلد لوٹادے ۔اس کی ادائیگی میں اس قدر تاخیر نہ کرے کہ وہ ضائع ہوجائے یا اس میں نقص پیدا ہوجائے کیونکہ یہ شے اس کے پاس ایک امانت ہے،نیزمالک نے اسے دے کر احسان کیا ہے،لہذا احسان کا بدلہ احسان سےدے۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: "هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ " "احسان كا بدلہ احسان کے سواکیا ہے؟"[2] غصب کے احکام "غصب"کےلغوی معنی" کسی شے پر ظالمانہ قبضہ کرنے" کے ہیں۔فقہاء کی اصطلاح میں"غصب" کسی کے حق پر زبردستی ناحق قبضہ جمانے کا نام ہے۔ [1] ۔ (ضعیف) سنن ابی داود،البیوع، باب فی تضمین العاریۃ،حدیث 3561،وجامع الترمذی، البیوع باب ماجاء فی ان العاریۃ موداۃ،حدیث 1266۔وسنن ابن ماجہ، الصدقات، باب العاریۃ،حدیث 2400،واللفظ لہ۔ [2] ۔ الرحمٰن 55/60۔