کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 120
جس نے کوئی شے اجرت پر لی اس پر لازم ہے کہ وہ اسی حالت میں مالک کو واپس کرے جس حالت میں کرائے پر لی تھی۔ دوران استعمال میں کوئی خرابی پیدا ہو گئی تو کرایہ دار اسے دور کرے۔ اجارہ فریقین (مالک اور مستاجر) کے درمیان ایک معاہدے کا نام ہے جو بیع ہی کی ایک قسم ہے، لہٰذا اس کا حکم بھی بیع والا ہے ۔کسی فریق کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسرے کی رضا مندی کے بغیر یہ معاہدہ فسخ قراردے، البتہ اگر معاہدے کے بعد اس چیز میں کسی عیب کا علم ہوا تو مستاجر کو فسخ کا حق حاصل ہے۔ مالک کو چاہیے کہ وہ مستاجر کو متعین شے حوالے کر ے اور اسے اس سے مکمل طور پر نفع اٹھانے کا اختیار دے۔ اگر ایک شخص نے کوئی چیز کرائے پر دی مگر مستاجر کو اس سے فائدہ حاصل کرنے سے روک دیا تو جتنی رکاوٹ رہے گی اس کا کرایہ ساقط ہو جائے گا۔ اور اگر مستاجر خود اس سے فائدہ حاصل نہیں کر رہا تب اس کو پورا کرایہ دینا ہو گا کیونکہ اجارہ ایک معاہدہ تھا جس کی پابندی ہر ایک پر لازم ہے اور وہ یہ کہ مالک اجرت لے اور مستاجر فائدہ حاصل کرے۔ درج ذیل امور کی وجہ سے اجارے کا معاہدہ ختم ہو جائے گا: 1۔ کرائے پر دی ہوئی چیز تلف اور ضائع ہو جائے، مثلاً:اگر اجرت پر جانوردیا تھا تو وہ ہلاک ہو گیا یا گھر کرائے پردیا تھا لیکن وہ منہدم ہو گیا یا کاشت کے لیے زمین اجرت پر لی تھی لیکن اس کا پانی خشک یا منقطع ہو گیا۔ 2۔ ایک مقصد کے حصول کی خاطر اجارہ ہوا لیکن معاہدہ اجارہ پر عمل سے قبل ہی مقصد حاصل ہو گیا ،مثلاً کسی ڈاکٹر سے ایک مریض کے علاج کی خاطر اجرت طے کی گئی لیکن علاج شروع کرنے سے پہلے مریض ٹھیک ہو گیا ،لہٰذا اب معاہدے کو پورا کرنے کی ضرورت نہیں۔ کسی نے اپنے پاس ایک متعین کام کے لیے مزدور رکھا جو دوران کام میں بیمار ہو گیا تو مزدور کو چاہیے کہ کوئی اپنا قائم مقام مقرر کرے جسے طے شدہ اجرت کے تحت معاوضہ ادا کیا جائے گا ،البتہ اگر اسی سے کام لینے کی شرط طے ہوئی تھی تو نائب سے کام لینے سے مقصد حاصل نہ ہوگا، لہٰذا آجر پر لازم نہیں کہ وہ دوسرے مزدور کے کام کو قبول کرے بلکہ اسے اختیار ہے کہ وہ صبر کرے اور مزدور کے تندرست ہونے کا انتظار کرے یا اپنا حق وصول نہ ہونے کی وجہ سے معاہدہ اجارہ فسخ قراردے۔ مزدور دو قسم کا ہوتا ہے:(1)خاص (2)مشترک۔ خاص مزدور وہ ہے جسے ایک مقررہ مدت کے لیے مزدور رکھا گیا ہو، وہ مقررہ کام کرے گا اور آجر ہی اکیلا فائدہ