کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 99
"قبروں کی طرف منہ کرکے نماز نہ پڑھو اور نہ ان پر بیٹھو۔"[1] اورارشاد فرمایا: "فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ" "قبروں کو نماز کی جگہ نہ بناؤ۔"[2] قبرستان میں نماز سے ممانعت کی وجہ نجاست کا خوف نہیں ہے بلکہ قبرپرستی اور قبر کی تعظیم کا اندیشہ ہے۔اس کا مقصدمُردوں کی عبادت کے راستوں کو بند کرنا ہے،البتہ نماز جنازہ قبرستان میں ادا کرنا مستثنیٰ کردیاگیا ہے کیونکہ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل موجود ہے جونہی کی تخصیص ہے۔واضح رہے قبرستان اور اس کے اردگرد کی کھلی جگہ جہاں تک قبرستان شمار ہوتا ہے وہاں تک نماز ادا کرنا ممنوع ہے کیونکہ نہی کااطلاق اس ساری جگہ پر ہوتا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے قبر پر بنی ہوئی مسجد سےمتعلق فرمایاہے:" اس میں فرض یانفل کوئی نماز ادا نہ کی جائے۔اگر مسجد قبر سے پہلے بنی ہوتو اس قبر کو ختم کردیاجائے،یا تو قبر کو زمین کے برابر کردیاجائے یا پھر اگر قبر نئی ہوتو میت کو اس سے نکال کر دوسری جگہ دفن کردیا جائے۔اوراگر قبر مسجد سے پہلے بنی ہوتو مسجد گرادی جائے یاقبر کی شکل وصورت مٹادی جائے۔"[3] (4)۔اگر کسی مسجد کے قبلے کی جانب قبرہوتو نماز ادا کرنا درست نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "لا تُصَلُّوا إِلَى الْقُبُورِ" "قبروں کی طرف منہ کرکے نماز نہ پڑھو۔"[4] (5)۔لیٹرین میں بھی نماز ادا کرنا منع ہے کیونکہ وہ جگہ نجاست ہی کے لیے بنائی گئی ہے۔نیزشارع علیہ السلام نے وہاں ذکر الٰہی کرنے سے منع فرمایا ہے تونماز بطریق اولیٰ منع ہے۔علاوہ ازیں وہاں شیطان حاضر ہوتے ہیں۔ (6)۔حمام،یعنی باتھ روم میں نماز ادا کرنا ممنوع ہے کیونکہ وہ نہانے دھونے کی جگہ ہے۔وہاں انسان بے پردہ ہوتا ہے اور شیطانوں کابسیرا ہوتا ہے۔یہ ممانعت دروازے کے اندر کی تمام جگہ کو شامل ہے۔ (7)۔اونٹوں کے مسکن(باڑے) میں بھی نماز پڑھنا منع ہے۔شیخ تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اونٹوں کے باڑے میں نماز کی ممانعت،اس لیے ہے کہ وہ شیطانوں کی آماجگاہ ہے جس طرح حمام میں [1] ۔صحیح مسلم، الجنائز، باب النھی عن الجلوس علی القبر والصلاۃ علیہ، حدیث 972 وسنن ابی داود، الجنائز، باب فی کراھیۃ القعود علی القبر، حدیث 3229۔ [2] ۔صحیح مسلم، المساجد ،باب النھی عن بناء المسجد علی القبور۔۔۔حدیث 532۔ [3] ۔مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ 22/195 بتغیر یسیر۔ [4] ۔صحیح مسلم، الجنائز باب النھی عن الجلوس علی القبر والصلاۃ علیہ، حدیث 972۔