کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 94
"اور وہ لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریق پر پایا ہے اور اللہ نے بھی ہم کویہی بتایاہے۔آپ کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ فحش بات کی تعلیم نہیں دیتا۔"[1] آیت کا شان نزول یہ ہے کہ کفار مکہ ننگے ہوکر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے اور اسے ا پنے دین کاحکم سمجھتے تھے۔شرم گاہ کو ایک دوسرے کے سامنے ظاہرکرنے اور اسے دیکھنے کی حرکت گھناؤنےگناہ کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ بُرائی کا سبب اور اخلاقی تباہی کاذریعہ ہے جیسا کہ ان مادر پدر آزاد معاشروں میں دیکھا گیا ہے جہاں تعظیم وتکریم ختم ہوچکی ہے،اخلاقیات کی قدریں پامال ہوچکی ہیں اور بے حیائی عام ہے۔ شرم گاہ کو محفوظ کرنا اور اسے چھپا کررکھنا،عزت واخلاق کوقائم رکھناہے۔عزت وشرف کو ختم کرنے کے لیے شیطان اولاد آدم علیہ السلام کوآمادہ کرتاہے کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے ننگے ہوجائیں،جب کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس قبیح عمل پر یوں خبردار کیا ہے: "يَا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ يَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْآتِهِمَا" "اے اولاد آدم! شیطان تم کو کسی خرابی میں نہ ڈال دے جیسا اس نے تمہارے ماں باپ کوجنت سے باہر کرادیا ایسی حالت میں ان کالباس بھی اتروادیا تاکہ وہ ان کو ان کی شرمگاہیں دکھائے۔"[2] جسم کے قابل سترحصوں کی نمائش شیطانی مکروفریب کاایسا جال ہے جس میں بہت سی انسانی سوسائٹیاں پھنس چکی ہیں۔وہ اسے ترقی اور فن کانام دیتی ہیں۔نوبت بایں جارسید کہ مادر زاد ننگے لوگوں کی انجمنیں بن چکی ہیں۔ عورتوں میں بے پردگی عام ہوگئی ہے اور وہ مردوں کے سامنے اپنے جسم کی نمائش کرنے لگی ہیں۔اور انھیں اس پر ذرہ بھر شرم وحیا محسوس نہیں ہوتی۔ اے مسلمان! بدن کے قابل ستر حصوں کو ایسی چیز کے ساتھ چھپا کررکھنا ضروری ہے جس سے بدن کی نمائش نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ" "اےآدم کی اولاد! ہم نے تمہارے لیے لباس پیداکیا جو تمہاری شرمگاہوں کو چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے۔"[3] اس آیت سے واضح ہوا کہ ستر کو،چھپانے والے لباس سے ڈھانپنا فرض ہے اور اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ [1] ۔الاعراف۔7/28۔ [2] ۔الاعراف۔7/27۔ [3] ۔الاعراف۔7/26۔