کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 92
(5)۔نماز فجر: فجر کا وقت طلوع فجر(صبح صادق) سے شروع ہوتا ہے اور طلوع آفتاب تک جاتاہے۔جب طلوع فجر کایقین ہوجائے تب نماز فجر جلدی ادا کرنا مستحب ہے۔ پانچوں نمازوں کے یہ وہ اوقات ہیں جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ہیں۔آپ کو ان اوقات کی پابندی کرنی چاہیے۔نماز وقت سے پہلے پڑھی جائے نہ بعد میں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ * الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاتِهِمْ سَاهُونَ" "سو ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔"[1] یعنی وہ لوگ جو نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کرتے ہیں۔ اور فرمایا: "فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ ۖ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا ﴿٥٩﴾ إِلَّا مَن تَابَ " "پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کردی اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، سو ان کا نقصان ان کے آگے آئے گا ۔ بجز ان کے جو توبہ کر لیں ۔ "[2] جوشخص بلا شرعی عذر نمازمیں تاخیر کرتاہے اللہ تعالیٰ نے اسے "غافل اور نمازضائع کرنے والا" قراردیاہے ۔اور اسے" وَيْلٌ" اور "غَي"(وادی جہنم) کی دھمکی دی ہے۔ جوشخص نماز بھول جائے یا سوجائے تو وہ نماز کی قضا میں جلدی کرے۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاہے: "مَنْ نَسِىَ صَلاَةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا" "جونماز بھول گیا یا سوگیا اور پڑھ نہ سکا اسے جب بھی یاد آئے تو فوراً ادا کردے یہی اس کا کفارہ ہے۔"[3] جو نماز قضا ہوجائےاسے حتی الامکان فوراً ادا کردیا جائے۔اس کو ادا کرنے کے لیے اگلے دن کی اس کی ہم نام نماز کاانتظار نہ کیا جائے جیسا کہ عوام میں مشہور ہے۔نیز اس کے لیے ممنوع وقت کےگزارنے کاتکلف نہ کیاجائے بلکہ اسے اسی وقت اور فوراً ادا کردیاجائے۔ 2۔بدن کو ڈھانپنا: شرائط نماز میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ بدن کا وہ حصہ ڈھانپ لیا جائے جس کا چھپانا [1] ۔الماعون 107/4۔5۔ [2] ۔مریم:19/59۔60۔ [3] ۔ صحیح البخاری ،مواقیت الصلاۃ ،باب من نسی صلاۃ فلیصل اذا ذکر ولایعید الا تلک الصلاۃ ،حدیث 597 وصحیح مسلم، المساجد ،باب قضاء الصلاۃ الفائتۃواستحباب تعجیل قضائھا ،حدیث 684 واللفظ لہ۔