کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 89
"اور جوآگے والے ہیں وہ تو آگے والے ہی ہیں۔وہ تو بالکل نزدیکی حاصل کیے ہوئے ہیں۔"[1] صحیحین میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا،کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"الصلاة على وقتها""اپنے وقت پر نماز ادا کرنا"[2] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ""نمازوں کی حفاظت کرو۔"[3] نماز کی محافظت میں یہ بھی شامل ہے کہ اسے اول وقت میں ادا کیا جائے۔ دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں اور ہر نماز کا ایک مناسب وقت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پسند کیا ہے۔اور وہ بندوں کے احوال کے اعتبار سے بھی مناسبت رکھتاہے تاکہ وہ ان اوقات میں نمازیں ادا کرلیں۔اور دوسرے دنیوی کام اس میں رکاوٹ نہ بنیں۔ بلکہ اس سے دنیاوی کاموں میں معاونت ہو اور ان کی لغزشیں معاف ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچوں نمازوں کو بہتے دریا سے تشبیہ دی ہے،جس میں انسان پانچ وقت غسل کرتا ہے اور اس سے اس کے جسم پر ذرہ بھر میل کچیل نہیں رہتا۔[4] اوقات نماز کی تفصیل درج ذیل ہے: (1)۔نماز ظہر:نماز ظہر کا وقت زوال آفتاب سےشروع ہوتاہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ " "نماز کوقائم کریں آفتاب کے ڈھلنے کے وقت سے ۔"[5] زوال آفتاب کی علامت یہ ہے کہ کسی چیز کا سایہ مغرب کی جانب سے ختم ہوکر مشرق کی جانب آجائے۔ظہر کا وقت تب تک ہے۔جب ہر چیز کا سایہ لمبائی میں ایک مثل ہوجائے۔اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ" "ظہر کا وقت تب ہوتا ہے جب آفتاب ڈھل جائے حتیٰ کہ آدمی کا سایہ اس کے طول(لمبائی) کےبرابر ہوجائے۔"[6] [1] ۔الواقعۃ56/10۔11۔ [2] ۔صحیح بخاری ،مواقیت الصلاۃ ،باب فضل الصلاۃ لوقتھا ،حدیث 527 وصحیح مسلم، الایمان ،باب بیان کون الایمان باللّٰه تعالیٰ: افضل الاعمال، حدیث 85۔ [3] ۔البقرۃ 2/238۔ [4] ۔صحیح البخاری ،مواقیت الصلاۃ باب الصلاۃ الخمس کفارۃ، حدیث 528 وصحیح مسلم، المساجد ،باب المشئی الی الصلاۃ تمحی بہ الخطایا وترفع بہ الدرجات، حدیث 667۔ [5] ۔بنی اسرائیل 17/78۔ [6] ۔صحیح مسلم، المساجد، باب اوقات الصلوات الخمس، حدیث 612۔