کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 88
قائم کرنے اور زکوٰة ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی، اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی "[1] شرائط نماز کابیان شرط کا لغوی معنی"علامت" ہے اور اصطلاحاً شرط وہ ہے جس کے نہ ہونے سےکسی چیز کا نہ ہونا لازم آئے لیکن اس کے وجود سے کسی چیز کی موجودگی لازم نہ ہو۔شرائط نماز سے مراد وہ اشیاء ہیں جن کا حصول ممکن ہوتو ان کے بغیر نماز نہیں ہوتی،بلکہ ان میں سے ایک بھی مفقود ہوتو نماز صحیح نہیں ہوتی۔شرائط نماز کی تفصیل درج ذیل ہے: "إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا" "یقیناً نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں پر فرض ہے۔"[2] اہل اسلام کا اس امر پر اجماع ہے کہ پانچ نمازوں کے اوقات شریعت میں محدود اور مخصوص ہیں جن سے پہلے (بلاعذر) نماز نہیں ہوتی۔امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:" ہر نماز کاایک وقت ہے ،جسے اللہ تعالیٰ نے شرط قراردیا ہے۔صحیح نماز وہی ہے جو اس مقرر وقت میں ادا کی جائے۔" یادرکھیے!جب کسی نماز کا وقت شروع ہوجاتاہے تو وہ نماز فرض ہوجاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: "أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ ""نماز قائم کریں آفتاب کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک۔"[3] بنابریں علمائے کرام کا اس امر پر اجماع ہے کہ اول وقت میں نماز ادا کرنا افضل ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ""تم نیکیوں کی طرف دوڑو۔"[4] نیز اس کا فرمان ہے: "وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ ""اور اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو۔"[5] اور ارشاد ربانی ہے: "وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (10) أُولَٰئِكَ الْمُقَرَّبُونَ" [1] ۔النور۔24/36۔37۔ [2] ۔النساء:4/103۔ [3] ۔بنی اسرائیل 17/78۔ [4] ۔البقرۃ:2/148۔ [5] ۔آل عمران 3/133۔