کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 82
"وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ " "انھیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں۔اسی کے لیے دین کو خالص رکھیں یکسوہوکر،اور نماز کو قائم کریں۔"[1] اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں(وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ)"نماز قائم کرو۔"کے الفاظ متعدد بار ذکر کرکے نماز کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ایک مقام پر فرمایا: "قُل لِّعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا يُقِيمُوا الصَّلَاةَ " "میرے ایمان دار بندوں سے کہہ دیجیے کہ نماز کو قائم کریں۔"[2] سورۂ روم میں فرمایا: "فَسُبْحَانَ اللّٰهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ ﴿١٧ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ ﴿١٨﴾" "پس اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھا کرو جب تم شام کرو اور جب صبح کرو۔ تمام تعریفوں کےلائق آسمان وزمین میں صرف وہی ہے، تیسرے پہر کو اورظہرکے وقت بھی (اس کی پاکیزگی بیان کرو)۔"[3] جب کسی عاقل بالغ مسلمان پر نماز کاوقت آجائے تو اس پر نماز فرض ہوجاتی ہے،البتہ اگر کوئی عورت حیض یا نفاس کی حالت میں ہوتو اس پر نماز فرض نہیں ہوتی اورنہ طہارت کے بعد اس کی قضا ہے۔ سویاہوا جب بیدار ہویا بے ہوش شخص جب ہوش میں آجائے تو ان پر قضا دینالازم ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي" "اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔"[4] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَنْ نَسِىَ صَلاَةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا" " جو شخص نماز بھول گیا یا سوگیا تو اس کاکفارہ یہی ہے کہ جب اسے یاد آئے نماز ادا کرلے۔"[5] (1)۔چھوٹے بچے کے سرپرست کے لیے ضروری ہے کہ جب بچہ سات برس کا ہوجائے تو اسے نماز کی تلقین کرے باوجود یہ کہ اس پر نماز فرض نہیں لیکن سرپرست اس کا اہتمام ضرور کرے،اسے نماز کا عادی بنائے،اس سے بچے اور [1] ۔البینۃ 98/5۔ [2] ۔ابراہیم 14/31۔ [3] ۔الروم 30/17۔18۔ [4] ۔طہٰ 20/14۔ [5] ۔صحیح مسلم، المساجد، باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ۔حدیث 684۔