کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 81
پانچ نمازوں کی فرضیت ارکان اسلام میں کلمہ شہادت کے بعد نماز کی اہمیت اور تاکید سب سے زیادہ ہے۔نماز عبادت کی کامل اور حسین صورتوں کا مجموعہ ہے۔نماز عبادت کی بہت سی اقسام پر مشتمل ہے،جیسے ذکر الٰہی ،تلاوت قرآن ،قیام،رکوع،سجدہ، دعا،تسبیح اور تکبیر وغیرہ۔نماز بدنی عبادات کی چوٹی ہے۔اللہ کے رسولوں میں سے کسی کی شریعت نمازسے خالی نہ تھی۔جملہ احکام شرعیہ میں نماز کا یہ مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ختم الرسل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت فرض کی جب آپ معراج کی رات آسمان پر گئے تھے۔[1] یہ خوبی نماز کی عظمت،اس کی اہمیت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا بلند مرتبہ ومقام کا ہونا واضح کرتی ہے۔ ہرشخص پر نماز کی فضیلت اور نماز کی فرضیت سے متعلق بہت سی احادیث آتی ہیں حتیٰ کہ دین اسلام میں نماز کی فرضیت بدیہی معلوم ہوتی ہے۔اس کا منکر مرتدہے جسے توبہ کاموقع دیا جائے گا،اگر وہ توبہ کرلے تو ٹھیک ورنہ اس کو قتل کرنے پر امت مسلمہ کے علماء کا اتفاق ہے۔ نماز کو عربی زبان میں"صلاۃ" کہتے ہیں جس کا لغوی معنی"دعا" ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشادہے: (وَصَلِّ عَلَيْهِمْ) "اے نبی( صلی اللہ علیہ وسلم )! انھیں دعا دیجئے۔" نماز کا شرعی اور اصطلاحی معنی:’’وہ مخصوص اقوال وافعال ہیں جن کی ابتدا اللہ اکبر سے اور انتہا سلام پھیرنے سے ہوتی ہے۔‘‘چونکہ نمازی نماز میں عبادت ،ثنااور طلب ودرخواست کی شکل میں اللہ کے حضور دعا میں مشغول رہتا ہے،اس لیے نماز کو عربی زبان میں"صلاۃ" کہا جاتا ہے۔ ہجرت سے پہلے معراج کی رات(ہرعاقل،بالغ مسلمان پر دن رات میں) پانچ نمازیں فرض ہوئیں جیساکہ اوپر گزرچکا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا" "یقیناً نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں پر فرض ہے۔"[2] وہ اوقات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول وفعل سے واضح کردیے ہیں۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: [1] ۔صحیح البخاری، الصلاۃ ،باب کیف فرضت الصلاۃ فی الاسراء، حدیث 349 وصحیح مسلم، الایمان، باب الاسراء برسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ،حدیث 162۔ [2] ۔النساء:4/103۔