کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 77
ہوسکتی ہے،وہ چھ ہیں۔ان میں سے ایک علامت عادت ہے۔عادت ومعمول سب سے قوی علامت ہے کیونکہ اصل یہ ہے کہ جب تک یہ یقین نہ ہوجائے کہ حیض ختم ہوچکا ہے توجاری خون کو حیض ہی سمجھا جائے گا۔یا دوسری علامت تمیز ہے۔سیاہ،گاڑھے اور بدبودار خون کوحیض کا خون کہنا سرخ اور پتلے خون سے زیادہ مناسب ہے۔تیسری علامت عورتوں کی غالب اور عام عادت ہے کیونکہ قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ فردواحد پر اکثریت کے احکام ہی جاری ہوتے ہیں۔یہ تین علامات ایسی ہیں جو سنت اور قیاس سے ثابت ہوتی ہیں۔" پھر شیخ موصوف نے بقیہ تین علامات کا ذکر کیا اور آخر میں فرمایا:"سب سے درست اور مناسب قول یہ ہے کہ ان علامات کا اعتبار ولحاظ کیا جائے جن کے بارے میں سنت نے وضاحت کردی ہے اور باقی سب نظر اندازکرنے کے قابل ہیں۔"[1] مستحاضہ کا حکم 1۔جب اس کے(غالب گمان کے مطابق) حیض کے ایام پورے ہوجائیں تو وہ غسل کرے۔ 2۔ہر نماز کے وقت استنجا کرے،فرج سے نکلنے والی آلائشوں اور نجاستوں کو صاف کرے اور انھیں روکنے کے لیے شرم گاہ میں روئی کا ا ستعمال کرے۔مناسب ہے کہ انڈر وئیر پہن لے تاکہ روئی گرنہ سکے۔ 3۔ہر نماز کے لیے وضو کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ ہی کے بارے میں فرمایا: "تَدَعُ الصَّلاَةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ فِيهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ" "وہ حیض کے دنوں میں نماز چھوڑدے۔جب حیض بند ہوجائے تو غسل کرے اور پھر ہرنماز کے لیے وضو کرے۔"[2] اور فرمایا: "أَنْعَتُ لَكِ الكُرْسُفَ، فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ" "میرا مشورہ ہے روئی استعمال کرو کیونکہ وہ خون بند کردے گی۔"[3] [1] ۔مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللّٰه علیہ 21/630۔631۔ [2] ۔سنن ابی داود، الطھارۃ باب من قال تغتسل من طھر الی طھر،حدیث 297 وجامع الترمذی، الطھارۃ ،باب ماجاء ان المستحاضۃ تتوضا لکل صلاۃ،حدیث 126 وسنن ابن ماجہ الطھارۃ وسننھا، باب ماجاء فی المستحاضۃ التی قد عدت ایام اقرائھا قبل ان یستمر بھاالدم،حدیث 625۔ [3] ۔سنن ابی داود، الطھارۃ ،باب اذا اقبلت الحیضۃ تدع الصلاۃ حدیث 287 وجامع الترمذی، الطھارۃ ،باب ماجاء فی المستحاضۃ انھا تجمع بین الصلاتین بغسل واحد، حدیث 128 وسنن ابن ماجہ، الطھارۃ وسننھا، باب ماجاء فی المستحاضۃ التی قد عدت ایام اقرائھا۔۔۔حدیث 622۔