کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 76
دوسری قسم کا ہوتو وضو کر اور نماز پڑھ۔"[1] اس روایت سے واضح ہوا کہ عورت علامات وصفات سے استحاضہ اورحیض میں آسانی سےامتیاز وفرق کرسکتی ہے۔ (3)۔جب کسی عورت کی ایام حیض کے سلسلہ میں کوئی سابقہ عادت اور معمول نہ ہو اور اسے حیض اور استحاضہ کی تمیز بھی نہ ہوتو وہ گمان غالب کے مطابق ایک ماہ کے چھ یا سات دن حیض کے سمجھ لے کیونکہ اکثر خواتین کے ایام حیض اسی قدر ہوتے ہیں،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے فرمایا: "إِنَّمَا هِيَ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ فِي عِلْمِ اللّٰهِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي، فَإِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، أَوْ ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا، وَصُومِي وَصَلِّي، فَإِنَّ ذَلِكِ يُجْزِئُكِ، وَكَذَلِكِ فَافْعَلِي، كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ " "استحاضہ کا آنا شیطان کا اثر ہوتا ہے تو اللہ کے علم کے مطابق تو چھ یا سات دن ایام حیض سمجھ لے،پھر غسل کر اور جب تو اچھی طرح پاک وصاف ہوجائے توچوبیس یا تئیس دن تک روزہ رکھ اورنماز پڑھ،تیرے لیے یہ کافی ہے اور اسی طرح کرجس طرح حیض والی عورتیں کرتی ہیں۔"[2] گزشتہ بحث کا حاصل یہ ہے کہ جس عورت کے دن مقرر اور معروف ہیں اس کے وہی دن"ایام حیض" شمار ہوں گے اور جو عورت دونوں خونوں میں امتیاز کرسکتی ہے تو وہ امتیاز کرکے صورت حال کےمطابق عمل کرے۔اور جس عورت کے حیض کے دن مقرر نہ ہوں اور نہ وہ خون میں فرق وتمیز کرسکتی ہو تو اس کے ایام حیض چھ یا سات دن قرار پائیں گے۔یہ تطبیق کی ایک ایسی صورت ہے جس میں مستحاضہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول تینوں طریقے جمع ہوجاتےہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" علماء کے اقوال کے مطابق جن علامات سے حیض کے خون کی تعیین [1] ۔سنن ابی داود، الطھارۃ ،باب من قال توضا لکل صلاۃ ،حدیث 304 وسنن النسائی ،الطھارۃ، باب الفرق بین دم الحیض والاستحاضۃ ،حدیث 216۔217 وصحیح ابن حبان(الاحسان) الطھارۃ، باب الحیض والاستحاضۃ: 2/318 حدیث 1345 والمستدرک للحاکم 1/174 حدیث 618۔ [2] ۔ جامع الترمذی، الطھارۃ ،باب ماجاء فی المستحاضۃ ،انھا تجمع بین الصلاتین یغسل واحد، حدیث 128 وسنن ابی داود، الطھارۃ ،باب اذا اقبلت الحیضۃ تدع الصلاۃ، حدیث 287 وسنن ابن ماجہ، الطھارۃ وسننھا ،باب ماجاءفی البکر اذا ابتدات مستحاضۃ اوکان لھا ایام حیض فنسیتھا ،حدیث 627۔