کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 75
کے سبب خارج ہوتا ہے۔مستحاضہ کے معاملہ میں کچھ اشکال ہوتاہے کیونکہ کبھی حیض کا خون استحاضہ کے خون کے مشابہ ہوتا ہے۔جس وقت خون مسلسل یا اکثر اوقات میں خارج ہوتو کیا اسے حیض سمجھے گی یا اسے استحاضہ قرار دے گی جس کی وجہ سے نماز اورروزہ نہ چھوڑے گی؟ مستحاضہ کے احکام پاک عورتوں والے ہیں،جس کی تین حالتیں ہیں: (1)۔اگر کسی عورت کو پہلی مرتبہ استحاضہ کاخون آیا اور اس کے حیض کے ایام مقرر ہیں،مثلاً:اسے ہر ماہ کے شروع یا درمیان میں پانچ یا آٹھ دن حیض آتا ہے تو یہ مقررہ دن اس کے ایام حیض شمار ہوں گے ،ان میں نماز روزہ چھوڑ دے گی اور اس حیض کےدیگر جملہ احکام جاری ساری ہوں گے،جب اس کی عادت اور معمول کے مطابق ایام حیض پورے ہوجائیں گے تو وہ غسل کرکے نماز اداکرےگی اوربقیہ خون"استحاضہ" شمار ہوگا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: "امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ ، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي " "تو جتنا عرصہ حیض کی وجہ سے رکا کرتی تھی اتنے دن رک جا ،پھر غسل کراور نماز پڑھ۔"[1] اور آپ نے سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے فرمایا: "إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَيْسَ بِحَيْضٍ. فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلاَةَ" "استحاضہ ایک رگ کاخون ہے،حیض نہیں۔جب تجھے حیض آئے تو نماز چھوڑدے۔"[2] (2)۔اگر کسی عورت کی ایام حیض کے سلسلہ میں کوئی عادت اورمعمول مقرر نہیں لیکن اس کے خون میں امتیازی اوصاف موجود ہیں،مثلاً:سیاہ گاڑھا اور بدبودار ہوتو حیض ہے،اس میں نماز روزہ چھوڑدے گی۔اگروہ سرخ ہو اور وہ گاڑھا بدبودار نہ ہوتو اس صورت میں وہ استحاضہ کا خون ہوگا،جس میں نماز روزہ نہ چھوڑے گی۔یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش کوفرمایاتھا: "إِذا كا ن دَم الْحَيْضِ فإِنَّه دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ ،فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ ، وَإِذَا كَانَ الْآخَرُ، فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي" "جب حیض کا خون آئے جوسیاہ رنگت سے پہچانا جاتا ہے،جب یہ ہوتو نمازپڑھنے سے رک جا،جب [1] ۔صحیح مسلم، الحیض، باب المستحاضہ وغسلھا وصلاتھا، حدیث 334۔ [2] ۔صحیح البخاری، الوضوء، باب غسل الدم،حدیث 228 وصحیح مسلم، الحیض ،باب المستحاضہ وغسلھا وصلاتھا،حدیث 333۔